Sunday, 14 August 2016

انار کزم کیا ہے؟

انار کزم کیا ہے؟ 
#انارکزم Anarchism# ایک سرمایہ دارانہ نظریہ ہے جو انیسویں صدی کے اوائل میں ظہور پذیر ہوا اور آج پھر ایک تحریک اور ایک فکر کے طور پر اہمیت اختیار کررہا ہے۔ اس طرز فکر کی ابتدا ایک انگریز Calvanist  پادری نے کی جس کا نام William Godwin تھا، جو ١٧٥٦ء سے ١٨٣٦ء تک زندہ رہا۔ لیکن انگلستان میں یہ فکر کبھی مقبول نہ ہوسکی۔ Anarchism کے اہم ترین مفکرین فرانس اور روس میں پیدا ہوئے اور انیسویں اور بیسیوں صدی کے اوائل میں ان دونوں ممالک اور اسپین میں انارکزم ایک طاقتور تحریک کے طور پر ابھری۔ دور حاضر میں یہ تحریک امریکا، یوکرین، میکسیکو بولیویا اور چین میں پھل پھول رہی ہے۔مسلم ممالک میں ایران اور تیونس اس تحریک سے خاصے متاثر نظر آتے ہیں۔
انیسویں صدی کے اکابر انارکسٹوں کے نام یہ ہیں:

 Peirre Proudhon 

 Leo Tolstoy 

 Mikhail Bakunin 

Prince Peter Kropotkin 

Emma Goldman 

دورِ حاضر میں جو نمایاں مفکرین انارکزم سے متاثر ہیں ان میں Chomsky, #Nozick, Rand اور Wallerstein کے نام شامل ہے۔ دور حاضر کی سب سے موثر انارکسٹ تحریکZapatista کہلاتی ہے اور اس کا قائد Sub Commandant Marcos ہے ۔یہ تحریک Mexico میں طاقتور ہے اور اس       ہی تحریک کے متاثرین نے ہمسایہ ریاست Nicaragua میں امریکی فوج کا ساتھ دے کر استعمار مخالف تحریک Sandanista  کو شکست دی۔

انارکزم کے بنیادی #تصورات:
انارکسٹ تحریک سرمایہ دارانہ عدل کے حصول کی جدوجہد کرنے والی تحریک ہے۔ سرمایہ دارانہ عدل یہ ہے کہ ہر شخص اس بات کا مکلف ہو کہ وہ خیر و شر کی جو تعریف کرنا چاہے وہ کرنے میں اس معنی میں آزاد ہو کہ کوئی دوسرا شخص یا گروہ اس کو خیر اور شر کی کسی اور تعبیر کو قبول کرنے پر مجبور نہ کرسکے۔ اس کو خود تخلیقیت (Autonomy) کہتے ہیں۔ انارکسٹ سمجھتے ہیں کہ ریاست خود تخلیقیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور ریاست کو ختم کئے بغیر خود تخلیقیت اور مساویانہ آزادی (Equal freedom# ) کو فروغ دینا ناممکن ہے سرمایہ دارانہ انفرادیت اور سرمایہ دارانہ معیشت کو فروغ دینے کے لیے کسی نظام اقتدار (یعنی ریاست) کی کوئی ضرورت نہیں۔ انارکسٹ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خودتخلیقیت کو بروئے کار لانے کے لیے خود حاکمیت (Self Government) لازماً ناگزیر ہے۔ انسان کو صرف اپنے نفس کا بندہ ہونا چاہیے اور کسی بیرونی قوت کے اقتدار کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔ انارکزم جمہوریت کا خالص ترین ڈھانچہ (Purest Form ہے کیوں کہ جمہوریت نفس پرستی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

#انارکسٹ ان تمام معاشرتی اداروں کے بھی مخالف ہیں جو نفس پرستی کی تحدید کرتے ہیں۔ بیشتر انارکسٹ ملحد کافر ہوتے ہیں، کیوں کہ ان کی رائے میں خدا اور #مذہب نفس پرستی کو رد کرتے ہیں کچھ انارکسٹوں مثلاً Tolstoy اور کسی حد تک Kirkegard نے عیسائیت کی نفس پرستانہ تعبیر بھی پیش کی ہے اور بیسیویں صدی کے ایرانی مفکر علی شریعتی نے ان مفکرین کی پیروی کرتے ہوئے الوہیت الناس کا تصور پیش کیا ہے (لیکن شریعتی انارکسٹ نہ تھے ان کی فکر اشتراکی اور اسلامی تصورات کا ایک ملغوبہ تھی) علامہ اقبال کے تصور خودی میں بھی الوہیت الناس کی جھلکیاں ملتی ہیں۔

انارکسٹ خاندان کے بھی شدید مخالف ہیں ۔ انارکسٹ عوامی تحریکیں گھنائونی ترین جنسی بے راہ روی کی تبلیغ کرتی ہیں۔ سب سے مشہور انارکسٹ جس نے جنسی بے راہ روی کے فروغ کے لیے اپنی زندگی وقف کی امریکی Emma Goldman تھی ۔انارکسٹ اسکول کے ادارہ کی بھی مخالفت کرتے ہیں کیوں کہ اسکول اقتدار کی اطاعت کی عادت ڈالتے ہیں۔

#نظام اقتدار کو تتر بتر کرنے کے لیے انارکسسٹوں کا ایک مکتب تشددکولازم تصور کرتا ہے۔ یہ متشدد انارکسٹ روس میں نمایاں ہوئے ان میں Bakunin, Kropotkin اور Sergy Nachyev شامل ہیں۔ یہ تینوں کٹر ملحد تھے اور پادریوں کے قتل عام پر خاص زور دیتے تھے۔ Nacheyev کی اسلام دشمنی بھی مشہور ہے۔ Bakunin کے خیال میں انقلاب برپا کرنے والی اصل قوت شہروں کی کچی آبادی کے مسلح افراد (Lumpen Proletariat) فراہم کرتے ہیں۔ Bakunin کسانوں کی عسکری اور معاشی صف بندی پر بھی زور دیتا تھا۔ Bakunin روس کی سب سے اہم انارکسٹ تحریک  Norodnik سے متاثر تھا۔ یہ تحریک Nihilism کا پرچار کرتی تھی۔Nihil ism کو خالص منفعیت کہتے ہیں۔ Nihilism تحریک کا پورا زور افراد اور اداروں کو برباد کرنے پر ہوتا ہے۔ ان کی رائے میں سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ دارانہ ظلم کرنے والی ریاستی اور کاروباری قیادت کو قتل کردیا جائے اور اس عمل کے نتیجہ میں سرمایہ دارانہ عادلانہ انقلاب برپا ہوگا۔ Norodnikتحریک کا سب سے مشہور راہنما Bakunin  کا شاگرد Nacheyev تھا۔ Nacheyev کے شاگردوں نے روس کی Social Revolutionary Party  پر قبضہ کرکے 1917ء میں زار کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور گو کہ Lenin نے Social Revolutionary party کی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کی لیکن Nacheyev  کی فکر سے شدید متاثر تھا۔ Nacheyev کو 1884ء میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

انارکسٹوں کا دوسرا مکتب فکر تشدد کی تردید کرتا ہے۔ اس مکتب فکر کا اہم ترین مفکر Prodhounہے۔ وہ ذاتی ملکیت کو چوری (Property is Theft) کہتا تھا اورمارکس کیLabour Theory of valueکا قائل تھا۔ (اس نظریہ کے مطابق کسی شے کی قدر صرف اس سے متعین ہوتی ہے کہ اس شے کی پیدوار میں کتنی محنت صرف ہوئی ہے)وہ حکومت کے خاتمے اور مزدوروں کی رضا کارانہ معاشرتی تنظیموں کے قیام کو ضروری سمجھتا تھا۔ Prodhoun کی رائے میں یہ تنظیمیں(Syndicates) معاشرہ کی خود حکومتی (Self government) تنظیم ممکن بنائیں گی اور ان کی خود حاکمیت کے نتیجہ میںکسی سیاسی نظامِ اقتدار کو موجود رہنے کی ضرورت نہ رہے گی۔

Prodhoun سرمایہ دارانہ عدل کے قیام کے لیے کسی پر تشدد #انقلاب کا قائل نہ تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اگر مزدور Syndicates میں منظم ہوگئے تو سیاسی اقتدار خود بہ خود ان کے ہاتھوں میں آجائے گا اور سرمایہ دارانہ ریاستی نظام منتشرCollapse) (ہوجائے گا۔

Prodhoun کی فکر نے یورپی مزدوروں کی تحریک (trade union movement) کو بہت متاثر کیاہے اور سوشل ڈیموکریٹک جماعتیں (مثلا فر انس کی PSF برطانیہ کی Labour Party اور جرمنی کی SPD) مزدوروں کی پرامن جمہوری تنظیم کے ذریعہ ہی سرمایہ دارانہ نظام ریاستی میں اقتدار پر قبضہ کی کوشش کرتی ہیں۔ خود روس کی کیمونسٹ پارٹی کا ایک دھڑا (جس کو Memshevik کہتے ہیں) عدم تشدد اور مزدوروں کی جمہوری تنظیم کے ذریعہ انقلاب برپا کرنے کی حکمت عملی کا قائل تھا۔ گاندھی بھی عدم تشدد کے فلسفہ کا داعی تھا۔ وہ اپنے آپ کو Tolstoy کا شاگرد کہتا تھا اور گاندھی کے مجوزہ ”پنچائیتی نظام” میں Syndicalist فکر کی بہت سی جھلکیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔

دورِ حاضر کی انارکسٹ تحریکیں
١٩٦٠ء کی دہائی میں انارکسٹ تحریک کا ا حیاء یورپ اور امریکا میں ہوا۔ اس کا بنیادی محرک جنسی بے راہ روی کا وہ سیلاب تھا جو یورپ اور امریکا میں اس دہائی میں رونما ہونا شروع ہوا  جس نے ان ممالک میں خاندانی نظام کو تقریباً بالکل برباد کردیا ہے۔

اس #جنسی بے راہ روی کے فروغ کا گہرا تعلق اس معاشی حکمت عملی سے بھی  ہے ، جس کو Neo Liberalism کہتے ہیں اور جو ١٩٧١ء کے بعد امریکا اور بیشتر یورپی ممالک میں غالب رہی اس کو ”انفرادی انارکزم” ( Individualist Anarkism) بھی کہتے ہیں اور اس کا بانی امریکی انارکسٹ Max Stemn ہے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے جو چاہیں کریں ،خواہشات کی تحدیدکا معاشرہ کو کوئی حق نہیں۔ Ayn Rand  کہتی ہے کہ خود غرضی سب سے اعلیٰ انسانی وصف ہے۔Nozick ایک ایسی ریاست کی توجیہ بیان کرتا ہے جو ارتکازقوت کے عمل میں قطعاً حائل نہ ہو۔

جنسی اور معاشرتی بے راہ روی کی یہ دونوں گمراہیاں جن تحریکات میں سموئی گئی ہیں ان کو New Social Movements کہتے ہیں اور ان کی عالمی تنظیم World Social Forum (WSF) ہے جو سال میں ایک بار فواحش اور فسق و فجور کا ایک عالمی میلہ لگاتا ہے۔ چیدہ چیدہ New Social Movement  حسب ذیل ہیں:

٭… #تحریک #نسواں (Feminist Movement)

٭… #ماحولیاتی تحریک (Environmental Movement)

٭… اغلام بازوں کی تحریک (Homo Lesbian Movement)

٭… عالمگیریت کی تحریک (Antiglobalization Movement)

٭…حقوق #انسانی کی تحریک (Movement for Human Rights)

٭… نیو کلیر مخالف تحریک (Anti Nuclear Movement)

٭… امن کی تحریک (Anti War Movement)

ان تحریکوں کی مشترکہ بنیادی خصوصیات حسب ذیل ہیں:

١یہ سب تحریکیں آزادی کو فروغ دینا اپنا اصل مقصد قرار دیتی ہیں۔ یہ سب سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو فروغ دینے والی تحریکیں ہیں۔ یہ سب حرص اور ہوس کو عام کرنے والی اور عبادت کو رد کرنے والی تحریکیں ہیں۔ یہ جو ماحول قائم کرتی ہیں اور جس میں یہ فروغ پاتی ہیں وہ نہایت غلیظ، پراگندہ اور شہوانی جذبات سے لبریز ماحول ہوتا ہے، اس ماحول میں عصمت اور شرافت کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں۔ ان تحریکوں میں حصہ لینا شیطان کی پوجا کے مترادف ہے۔

٢یہ سب حقوق کی تحریکیں ہیں اور خود غرضی اور مطلب پرستی کو فروغ دیتی ہیں۔ یہ فرد کو خود حاکمیت اور خود تخلیقیت (Automory) کا درس دیتی ہیں ۔یہ انسان کو اپنے نفس کا بندہ بنادیتی ہیں اور ان تحریکوں میں شامل ہوکر انسان اپنے نفس کو حرص اور ہوس کے شیطانوں کے سپرد کردیتا ہے۔

٣یہ خاندانی نظام اور تہذیبی روایات کو بھسم کرنے والی تحریکیں ہیں ان کا شناختی رنگ خالصتاً شیطا نی ہے۔ ان کی صدا موسیقی اور ان کا فعل رقص ہے۔

٤…  یہ سب یک جہتی تحریکیں ہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی کسی ایک کمزوری کو دور کرنے کی جدوجہد کرتی ہیں تاکہ سرمایہ دارانہ عمل مستحکم ہو مثلاً ردِ عالمگیریت) (Anti Globalisation تحریک دراصل صرف ذیلی عالمگیریت (Globalisation From Below) کی تحریک ہے۔ اس کا مقصد سرمایہ دارانہ وسائل اور حقوق کی عام آدمی تک رسائی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی تقسیمی ناہمواریاں (Distributional Imbalance) کو دور کرنے کی جدوجہد کے علاوہ اور کچھ نہیں اور سرمایہ دارانہ سر خیل اس بات سے خوب واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ردِ عالمگیریت کو فنڈ دینے والی عالمی سرمایہ دارانہ کمپنیاں ہیں، اور ان ہی کمپنیوں کے پیسوں سے ہر سال ورلڈسوشل فورم کا میلہ سجایا جاتا ہے۔ ورلڈبینک ، آئی ایم ایف اور Trade Organization World ردِ عالمگیریت کی تحریکوں سے مسلسل مشاورت کے عمل کو جاری رکھتے ہیں۔

٥نیوسوشل مومنٹسNeo Social Movements) (استعمار بالخصوص امریکی استعمار کی کاسہ لیس تنظیمیں ہیںنگاراگواNicaragua) (کی جنگ میںامریکی فوج نے Zapista کی تنظیم کو Sandinista   گوریلوں کو شکست دینے کے لیے استعمال کیا افغانستان، ایران، صومالیہ، عراق، جنوبی سوڈان اور مالی میںیہ New Social Movements امریکا اور World Bank کے مخبروں کا کام دیتی ہیں اور چند ماہ قبل(جولائی 2012ئ) میں وینزویلا (Venezuela) میں تحریک نسواں کا ایک ایسا Network پکڑا گیا جو چھ سال سے سی آئی اے کو حکومت وینزویلا کے کی خفیہ اطلاعات فراہم کرتا رہا ہے۔

٦یہ ریاست کو کمزور کرنے والی تحریکیں ہیں ۔یہ ایک ایسے قوت کے  Network کو قائم کرتی ہیں جو ملکی اقتدار حکومت سے چھین لیتا ہے اور اس اقتدار کو بین الاقوامی سرمایہ دارانہ اداروں کی طرف منتقل کردیتا ہے۔ Karry Logar بل کے تحت پاکستان کوجو امداد فراہم کی گئی ہے وہ ان ہی New Social Movement کی NGO Network نے استعمال کی ہے۔

٧ان New Social Movement کا ایک اہم مقصد مسلمان ممالک کے ریاستی نظام کو کمزور کرناہے، وہ اس کے ذریعہ مسلم ممالک پر امریکی حکمرانی کو قائم کرنا چاہتی ہیں۔ اس کی سب سے واضح  مثالZapitista   کی تحریک ہے۔ یہ تحریک دو تین دہائیوں تک Mexico کے قدیم باشندوں (Red Indians) کو سیاسی اور سماجی طور پر متحرک (mobilize) کرتی رہی اور 1990ء کی دہائی کے اوائل تک ایک عظیم عوامی تحریک کی شکل اختیار کرگئی ۔اس کی قیادت میں لاکھوں افراد نے دارالحکومت (Mexico City) پر قبضہ کرلیا، لیکن اس تحریک نے حکومت وقت کو معطل نہ کیا کوئی نئی حکومت قائم نہ کی بلکہ صرف ایسے مطالبات منوائے جن سے Mexico کا ریاستی نظام مفلوج ہوکر امریکا کا کلیتاً محتاج ہوکر رہ گیا اور اب Zapista کی تحریک Mexico میں امریکی حکومت کے مفادات کے تحفظ کا کام انجام دے رہی ہے اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں Mexico پوری طرح ضم ہوکر رہ گیا ہے۔

تحریکات اسلامی اور دورِ حاضر کی انارکسٹ تحریکیں:

چوں کہ دورِ حاضر کی انارکسٹ تحریکیں، تحریک نسواں، ماحولیاتی تحریک ,عالمی امن کی تحریک Anti Nuclear  and  Peace  Movements , اغلام بازوں کی تحریک وغیرہ۔ آزادی کو فروغ دینے کی تحریکیں ہیں لہٰذا وہ لازماً عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو مستحکم کرنے والی تحریکیں ہیں، یہ سب اسلام دشمن تحریکیں ہیںکیوں کہ اسلام بندگی اور عبودیت کی بنیاد پر اپنا نظامِ زندگی استوار کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں ان تمام تحریکوں کی بھر پور اصولی اور عملی مخالفت کرنی چاہیے۔

دورِ حاضر میں یہ انارکسٹ تحریکیں عرب دنیا میں ایک بڑے خطرہ کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ تیونس مراکش، لیبیا اور مصر میں 2011ء سے آنے والی عوامی تحریکات حصولِ آزادی کی تحریکات ہیں اور New Social Movements کے بہت سے مطالبات کو ان تحریکات نے اپنالیا ہے۔ عرب بہار (Arab Spring) کا معاشرتی اظہار اسلامی نہیں، اس کا سب سے اہم ثبوت تحریر اسکوائر (Tahrir Square) میںبروئے کار آنے والی معاشرت ہے جہاں ہم اسلامی فضا قائم کرنے میں ناکام رہے اور فسق و فجور کے طوفان بدتمیزی کا سیلاب شرع کی بیشتر حدود کو پامال کرگیا۔

اخوان المسلمون نے کسی عرب ملک میں آزادی کو بحیثیت ھدف رد نہیں کیا۔ ان ممالک میں رائج شدہ سرمایہ دارانہ نظام میں اب تک کسی ہیئتی تبدیلی کی کوئی نشانی نہیں ملتی۔ امریکا اور اسرائیل کے خلاف ہم ابھی تک کوئی موثر اقدام نہیں کرسکے۔ ابھی تک ہماری تمام توقعات پارلیمانی دستوری نظام میں شمولیت سے ظاہراً وابستہ نظر آتی ہیں۔

میرا گمان ہے کہ اخوان یہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہے، راضی نہیں ہے۔ اخوان کا ایک عام کارکن اور اس کی قیادت اسلام کے مخلص ترین شیدائیوں پر مشتمل ہے۔ اخوان اللہ پر، رسولوں پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ آزادی و مساوات اور ترقی پر کیسے ایمان لاسکتے

 ہیں۔ جمہوری دستوری نظام سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو مسخر کرنے کے جو مواقع فراہم کرتا ہے اخوان اس سے فائدہ اٹھانے کی پوری صلاحیت اور عزم رکھتے ہیں۔ جمہوری دستوری نظام پر انحصار کی مجبوری کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اخوان کی قیادت:

١ترکی کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے نظریات اور حکمتِ عملی کو صریحاً رد کرے۔

٢معاشرہ میں آزادی، مساوات اور ترقی کے کفریہ نظریات ہونے کا شعور بتدریج پیدا کرے اور اسلامی روحانیت سے مصری انفرادیت اور معاشرت کو سرشار کردے۔ اپنے دورِ ابتلا میں حاصل کردہ تجربات سے فائدہ اٹھاکر اخوان یہ کام بحسن و خوبی انجام دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

٣نیوسوشل موومنٹس کو استعمار اور اسرائیل کی ایجنٹ تنظیموں کے طور پر عوام میں مشتہر کرے اور عوامی حقوق کے حصول کی تمام تحریکات کو De-legitimise کرے۔ حقوق کے حصول کی تحریکوں سے کسی سطح پر اشتراکِ عمل کو روانہ رکھے۔ بلکہ ان تحریکات کے قائدین کو مصری ریاست کے غدار اور اسرائیل اور امریکا کے کاسہ لیس ایجنٹوںکے طور پر عوام میںمشتہر کرے اور فواحش اور منکرات پھیلانے والے شیطانی ٹولوں کے طور پر متعارف کرائے۔

٤اسلامی نظام اقتدار کو استوار کرنے کے لیے مساجد و مدارس کو بنیاد بناکر ریاست کی ترتیب نو کی داغ بیل ڈالے اور ایک مربوط اور ہمہ جہت حکمتِ عملی کے تحت ریاستی اداروں، فوج، پولیس سول انتظامیہ، عدلیہ، میڈیا اور تعلیمی اداروں کومساجد اور مدارس کے زیر تسلط لے آئے۔

٥سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کی تحلیل اور اسلامی نظامِ اقتدار کی ترتیب نَوکے عمل سے داخلی اور خارجی ریاستی پالیسیوں میں تبدیلی کے عمل کو مربوط کردے۔

مصر میں (اور شاید کچھ دیگرعرب ممالک میں بھی) ایک اسلامی گروہ کی حکومت قائم ہے۔ اس اسلامی گروہ کی حکومت کی بقا کا انحصار سب سے زیادہ اس بات پر ہے کہ یہ اسلامی حکومت، ایک اسلامی ریاست (یعنی اسلامی نظام اقتدار) قائم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر ہم نے اسلامی ریاست کے قیام کی ضرورت اور اولیت سے انکار کیا اور سرمایہ دارانہ ریاستی نظام کی اسلام کاری پر اکتفا کیا تو ہمارا حشرجسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی جیسا ہوگا جس کو آج اوباما Nato’s Islamist  کہتا ہے

#liberal #

سیکولرازم کیا چاہتا ہے

‫#‏سیکولرازم‬ چاپتا ہے کہ اگر اسلام موجود ہو تو کسی کونے میں پڑا رہے اور عملی زندگی میں اس کا کوئی تعلق نہ ہو بلکہ اسلام کے خاموشی سے کسی کونے میں پڑے رہنے کو بھی سیکولرازم اسلام پر اپنا احسان مانتی ہے 
-
سیکولرازم چاہتا ہےکہ اگر لوگ اسلام سے اپنا تعلق رکھنا چاہتے ہیں تو وہ بس اتنا ہو کہ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر کبھی کبھار کوئی دینی گفتگو نشر کی جائے، ہر جمعے کو اخبار میں دینی صفحہ دیا جائے
-
سیکولرازم چاپتا ہے کہ عام نظام تعلیم میں ایک پیرڈ دینی علم کا بھی ہو، سرکاری قوانین کےمجموعے میں ایک حصہ اسلام کا بھی ہو، معاشرے کے بے شمار اداروں میں ایک مسجد بھی تعمیر کی جائے اور نظام حکومت میں ایک وزارت اوقاف بھی ہو۔
۔
سیکولرازم کے حامی کہتے ہیں کہ اسلام کو چاہئیے کہ وہ اسی پر ہی اکتفا کرے اور ہمارا شکر بجا لائے کہ ہم نے انہیں محراب و منبر سے اپنا سر اٹھانے کی اجازت دی!
-
مگر ‫#‏اسلام‬ کا مزاج یہ نہیں ہے کہ وہ زندگی کے ایک پہلو یا ایک گوشے پر قناعت کرلے، اسلام زندگی سے موت تک اور موت کے بعد تک انسان کو ہدایت فراہم کرتا ہے اور زندگی و کائنات کے ہر معاملے میں رہنا چاہتا ہے
-
-
کتاب اسلام اور سیکولرازم
یوسف ‫#‏القرضاوی‬
صفحہ 107 تا 108

‏لبرلزم‬ کا مقابلہ اسلامِ مجمل سے


‫#‏لبرلزم‬ کا مقابلہ اسلامِ مجمل سے
اِس سلسلۂ مقالات میں ہماری کوشش ہو گی، ’’لبرلزم‘‘ کو زیربحث لانے کے دوران ’’اسلام‘‘ کے حوالے سے وہ بیان ہو جو اہل سنت تو اہل سنت، بہت سے بدعتی طبقوں کے ہاں بھی متنازعہ نہیں۔ اس وجہ سے نہیں کہ بدعتی ٹولوں کا اسلام ہمارے ہاں کسی درجے میں قابلِ قبول یا لائقِ ترویج ہے۔ معاذاللہ۔ بلکہ یہ واضح کرنے کےلیے کہ اِس نئے اژدہا (لبرلزم) کے مقابلے پر ہمارے ان بدعتی ٹولوں تک کو اصولاً ہمارے ہی ساتھ کھڑا ہونا چاہئے، نہ کہ اُس کے ساتھ؛ بشرطیکہ یہ اپنے نظریات و عقائد ہی میں کچھ سچے ہوں۔ ہمیں یقین بھی ہے، اِس اژدہا کی حقیقت معلوم ہونے پر ایسے بہت سے ٹولے اس کا سر کچلنا چاہیں گے (اور ان شاءاللہ اس پر خدا سے اجر پائیں گے)۔ دین اور ملت کےلیے یہ سبھی طبقے ایک اخلاص رکھتے ہیں۔ اور یہ وہ وقت ہے، نیز یہ وہ دشمن ہے، کہ اس کو عالم اسلام سے باہر کر آنے کےلیے سب کو ہتھیار سونتنے ہیں۔ خود ہمیں چاہئے اِس موقع پر، اور اِس دشمن کے مقابلہ پر، ایسا ہی ایک وسیع تر محاذ تشکیل دیں۔ اصولِ سنت میں نہ صرف اس کی گنجائش ہے، بلکہ اس کی جانب نہایت واضح اور زوردار راہنمائی موجود ہے۔
ہمارے اس بیان سے یہ بھی فائدہ ہوگا کہ کچھ نئی ’اسلامی‘ آوازوں کی حقیقت خود ان کے پیروکاروں پر واضح ہو گی جن کی قیادتوں نے اپنا پورا وزن اِس وقت لبرلزم کے پلڑے میں ڈال رکھا ہے اور اپنی تمام قوتِ بیان دانستہ یا نادانستہ اِس وقت لبرلزم کو مسلم معاشروں میں پیش قدمی کروانے اور اس کے راستے میں مزاحم اسلامی قوتوں کی بیخ کنی پر جھونک رکھی ہے۔ خود ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے، یہ اژدہا یہاں کسی سُنی تو کیا کسی بدعتی ٹولے تک کو نہیں چھوڑنے کا۔ وہ ایک ایک کر کے اِن سب کو نگلے گا۔ بلکہ مسلمانوں کے بدعتی تو رہے ایک طرف، وہ کسی روایت پسند عیسائی یا یہودی کو نہیں چھوڑنے کا۔ یہاں تو ہندو اور سکھ کھائے جانےوالے ہیں۔ اِس اَربنائزنگ ‘urbanizing’ کے کرشمے رفتہ رفتہ سبھی دیکھیں گے! بلکہ دیکھ سکتے ہیں! بلاشبہ یہ ایسا ہی ایک عفریت ہے۔ پس وہ حضرات جو اُس کے نوالے آسان کرکرکے اُس کو پیش کرنے میں ہمہ تن مصروف اپنی قسمت پر نازاں ہیں، خاطر جمع رکھیں۔ اِن سب کی باری آنے والی ہے؛ اور وہ بڑی ٹھنڈی کر کے کھانے کا قائل ہے! ہمارا کوئی جدت پسند سے جدت پسند ٹولہ بھی اس لبرلسٹ مائنڈ سیٹ liberalist mind-set کو (اِن دا لانگ رن in the long run ) قبول نہیں، کاش یہ سب اس کا ادراک کر لیں اور اُس کی جانب سے ملنے والی ایک وقتی پزیرائی پر اس قدر فریفتہ نہ ہوں۔
حالیہ لبرلسٹ یلغار کے مقابلے پر اسلام کا وہ بیان جو بہت سے بدعتی طبقوں کے ہاں بھی متنازعہ نہیں؛ اس سے ہم اپنی مراد واضح کرتے چلیں…
مثال کے طور پر یہ ضروری نہیں کہ اِس لبرل طوفان کی سنگینی بیان کرنے اور اس کی تباہ ناکیوں سے متعلق آپکی آنکھیں کھولنے کےلیے ہم آپکو یہ بتائیں کہ زنا پر اسلام میں بتائی گئی ’’رجم‘‘ کی سزا اس وقت خطرے میں ہے۔ ہمارے کچھ منحرف ٹولے ’’رجم‘‘ پر بےشک متفق نہیں رہے ہیں؛ اور اس پر ہم ان کو بہت کچھ کہہ چکے اور ان کے بطلان پر صدیوں سے بہت کچھ لکھ آئے ہیں۔ وہ سب بلاشبہ حق ہے۔ اب یہ ’’رجم‘‘ ہمارے یہاں کتنا ہی متواتر اور اجماعی کیوں نہ ہو، مسئلۂ درپیش پھر بھی اس سے بہت آگے ہے۔ وہ بحثیں تھیں جب کم از کم اسلامی سزاؤں کا کوئی تصور تھا۔ یہاں تو صاف زندقہ (heresy) ہے۔ یہاں تو ایک منحرف سے منحرف مسلمان کا، سوائے اِس زندقہ کے مقابلے پر اٹھ کھڑا ہونے کے، کوئی موقف بنتا ہی نہیں۔ اور جو ظالم یہاں پر دشمن کی صف میں جا کھڑا ہوتا اور اُس کا دست و بازو ہو جاتا ہے، اُس کے ساتھ ’’رَجم‘‘ یا ’’جَلد‘‘ کی بحثیں چہ معنیٰ؟ اس کا تو اصل چہرہ یوں واضح ہونا چاہئے کہ یہ اپنے اُس اسلام کے دعویٰ میں بھی، جسے یہ خود اپنی زبان سے مانتا ہے، سچا نہیں۔ یہ تو ایک ایسے برہنہ کفر کا مددگار ہے جس کا کفر اور الحاد ہونا جملہ اہل اسلام کے قول کی رُو سے مسلّم ہے۔
لبرلزم وہ بلا تھوڑی ہے جو آپ کے ہاں محض کسی ’’رجم‘‘ کو ختم کروا جائے گی سو ’’رجم‘‘ کے مخالفین مسلمانوں کی فقہ میں ’اِتنی سی‘ ترمیم کروانے کےلیے اِس کو ایک نایاب موقع کے طور پر لیں! یہ تو وہ آفت ہے جو ’’زنا‘‘ نامی جرم پر اسلام میں بتائی گئی کسی بھی پاداش کو ختم کروانے آئی ہے۔ صرف ختم کروانے نہیں __ کیونکہ یہ کام ’’سیکولرزم‘‘ کب کا کرچکا __ ’’لبرلزم‘‘ کا کام تو اب یہ ہے کہ فحش و بےحیائی ایسا کوئی ’فطری شوق‘ پورا کر لینے پر حضرتِ انسان کی کوڑوں سے تواضع کر ڈالنے کے تصور کو ہی، بلکہ کوڑے ہی کیا، اس حرکت پر کسی بھی قسم کی سزا دینے کے تصور کو، بلکہ سرے سے ایسی کوئی قدغن روا رکھنے کو ہی ایک قطعی لغو اور بیہودہ بات قرار دلوائے؛ اور انسان جو چاہے سو کرنے میں آزاد ہو ایسے ’عقیدۂ حق‘ کے منافی ٹھہرائے۔ مزید براں؛ یہ فحش و بےحیائی پر سزاؤں اور قدغنوں کو صرف ایوانوں سے بےدخل نہ کرے __ کیونکہ یہ کام ’’سیکولرزم‘‘ کا ہے __ بلکہ ذہنوں اور رویّوں کے اندر ہی ان اشیاء کے لغو اور بیہودہ ہونے کا تصور جاگزیں کرائے۔
بلکہ سزائیں اور قدغنیں تو دور کی بات… انسان کے ایسے کسی ’شوق‘ کے آڑے آنا ہی ایک فرسودہ اور غیرمہذب رویہ قرار دلوائے۔ ’’لبرلزم‘‘ اس بلا کا نام ہے۔
مزید مثالیں:
اس معاصر زندقہ کے مقابلے پر اسلام کے بیان میں ہم ’جہادِ طلب‘ یا ’مرتد کی سزا‘ کا بیان نہ بھی کریں تو ہمارا کام چل جاتا ہے۔ اس وجہ سے نہیں کہ ہجومی جہاد یا مرتد کی سزا کو ہم ناحق جانتے ہیں۔ معاذاللہ۔ بلکہ اس وجہ سے کہ کافر حملہ آور افواج کی دھماچوکڑی کے نیچے کراہتے حاضر عالم اسلام میں نہ دُوردُور تک اس بات کا امکان ہے اور نہ کوئی امیرالمومنین یہاں مستعد بیٹھا ہے کہ بس آپ کے فتویٰ دینے کی دیر ہے وہ اسلام سے تصادم رکھنے والے کسی ملک کے خلاف اعلانِ جہاد کر ڈالے گا! یہاں تو کوئی اسلامی ملک ان کافر ممالک کو اسلام کی خالی دعوت دینے پر آمادہ نہیں۔ بلکہ ’’اسلام کی دعوت‘‘ دینے کےتصور کا روادار نہیں ہے۔ ہم تو خوشی سے باغ باغ ہو جائیں اگر یہاں کا کوئی مسلم ملک دنیا کے کسی غیرمسلم ملک کو ’’اسلام کی دعوت‘‘ دینے اٹھ کھڑا ہو! جی ہاں خالی ’دعوت‘ جوکہ ’’جہاد‘‘ وغیرہ ایسے کسی بھی مبحث کے کھلنے سے بہت پہلے ہواکرتی ہے! یہ تو سارا فنامنا phenomenon ہی اور ہے حضرات! یہاں اِن بحثوں کو لے بیٹھنے کا فائدہ؟ اسے تو اسلام کے ڈھب پر لانے پر ہی ابھی بہت کام باقی ہے؛ لہٰذا ’’جہادِ طلب‘‘ کے تقاضے ابھی ہم نہ بھی لے کر بیٹھیں تو ہمارا گزارہ ہوتا ہے۔ یہاں تو ہم اپنے ان منکرینِ جہاد طبقوں کو جو ’دعوت دعوت‘ الاپتے ہیں، (اور تاثر دیتے ہیں گویا یہ تو دعوت کے محاذ پر سرگرم ہیں!)… ہم اِن ’دعوت‘ کے قائل طبقوں کو دعوت دیں گے کہ آئیے مل کر تحریک اٹھاتے ہیں کہ ہمارے یہ ملک داخلی سطح پر جہادِ دفاع پر ہی کچھ مؤثر قدم اٹھائیں اور خارجی سطح پر غیرمسلم ملکوں کو اسلام کی دعوت دیں؛ اگر یہ طبقے خود اپنے قول میں سچے ہیں)!
نیز مرتد کو سزا دینے کو فی الحال یہاں کوئی جلاد تیار کھڑا ہوا نہیں ہے! بلکہ شریعت کے نفاذ کو ہی سرے سے یہاں کوئی توجہ دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہاں ایسی بحثیں اٹھنے دینا کہ ملک میں شریعت آجانے کا مطلب ہی گویا یہ ہے کہ ملک میں ہر طرف مرتدین کےلیے ٹکٹکیاں اور پھانسی گھاٹ کھل جانے والے ہیں، ہمارے اس پورے کیس کی غلط تصویر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ لبرلزم کا کام آسان کرنے والے ’مذہبی‘ طبقے اِس وقت ’مرتد کی سزا‘ وغیرہ کا مسئلہ اٹھا کر دراصل شریعت کے اُس بہت بڑے حصے کو ہی کھوہ کھاتے ڈالنا چاہتے ہیں جس پر خود ان کو بھی اصولاً کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں فی الوقت اُس شریعت کےلیے ہی آواز اٹھا لیتے ہیں جس پر امت کے کسی منحرف سے منحرف ٹولے کو بھی اعتراض نہیں؛ اور چلیے لبرلزم کو وہیں پر شکست دے لیتے ہیں۔ یہ سب بحثیں ہم بعد میں کسی وقت کر لیں گے جب یہ زندیق ہماری جان چھوڑ جائے۔ اُس دن تم جیتو یا ہم، کم از کم اِس زندیق کی ہم سب پر جیت پا لینے کے مقابلے پر یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ دیکھو یہ کس قدر مناسب بات ہے۔ لیکن شریعت کے اُن جوانب کےلیے تو فی الوقت ہرگز کوئی آواز نہ اٹھانا جن میں ہمارا تمہارا کوئی اختلاف نہیں بلکہ کسی بھی مسلمان کا کوئی اختلاف نہیں؛ البتہ عین اس موقع پر یہ بحثیں لے کر بیٹھ جانا کہ مرتد کی سزا کیا ہونی چاہئے اور ہجومی جہاد کا کیا حکم ہے، اور ان باتوں کا فیصلہ آج ابھی چاہنا جب کوئی مرتد کی سزا دینے یا اعلانِ جہاد کرنے کو یہاں بیٹھا ہوا ہی نہیں ہے اور جبکہ لبرلزم کا کفر جس کی زد پر پورا اسلام ہے یہاں اودھم مچا رہا اور ’جو نقشِ کہن نظر آئے مٹا‘ رہا ہے… یہ دراصل یہاں لبرلزم کی پیش قدمی کو آسان کرنا ہے۔ ان چند ’متنازعہ‘ بحثوں کا ’خوبصورت نتیجہ‘ یہ ہو گا کہ شریعت کے وہ جوانب بھی پس پشت ڈالے جائیں جو سرے سے متنازعہ نہیں؛ جبکہ لبرلزم کا نشانہ سب سے بڑھ کر اسلام کے وہی پہلو ہیں جن پر آج تک مسلمانوں کا کوئی اختلاف نہیں ہوا۔
ہم علیٰ وجہ البصیرت کہتے ہیں، لبرل ارتداد کے خلاف ہمارے جو طبقے یہاں محاذ اٹھائیں گے انہیں یہ سٹرٹیجی اختیار کیے بغیر چارہ نہ ہوگا۔
اِس لبرلزم کے محاذ پر ضرورت بھی ہے اور امکان بھی کہ جدت پسندوں کے تعمیری ذہنوں سے لے کر روایت پسندوں کے سمجھدار طبقوں تک سبھی مل کر، اور اپنا تمام تر اختلاف یا تنوع برقرار رکھتے ہوئے، قوم کو اٹھائیں اور کم از کم اس درندے کو عالم اسلام سے باہر کر آنے پر یک آواز ہوں۔ پوری قوم کو اٹھائے بغیر… درندے کے مقابلے پر پوری قوم کو سراپا مزاحمت بنائے بغیر… تاریخِ انسانی کی اِس بدترین آفت سے جان چھڑانا ممکن نہیں۔
اسی بات کو ہم یوں بھی بیان کرتے ہیں کہ علمی حلقوں میں خواہ آپ جو بھی موضوعات اٹھائیں اور کیسے بھی علمی یا فقہی مواقف اختیار کریں، عوامی سطح پر، اور دعوت کے میدان میں، اس وقت لوگوں کو ’’مجمل اسلام‘‘ پر یک آواز کرا دینا اور ’’کفر سے مجمل براءت‘‘ کے لہجے اختیار کروا دینا ہی ضروری ہے۔ یہ کام کیے بغیر اس عفریت سے نبردآزما ہونا جو ہمارے دماغوں کو تیزی کے ساتھ نگل رہا ہے، ناممکن ہے۔ یہاں قوم کو یک آواز کرنے والوں کو پہاڑ ایسا حوصلہ درکار ہو گا۔
ہاں اگر ’’اسلام سے مجمل وابستگی‘‘ اور ’’کفر سے مجمل براءت‘‘ کے لہجے عام کردینے پر آپ کا اتفاق ہو جاتا ہے، اور عملاً بھی ایسے لہجے نشر کر لینے میں آپ کے یہاں کچھ پیش رفت کر لی جاتی ہے… تو پھر وہ تمام لوگ جنہیں امت لبرل کیمپ میں کھڑا دیکھتی ہے، امت کے علماء اور صلحاء کو انہیں امت کے ہاں اچھوت بنا دینے تک چلا جانا چاہئے۔ یہ جنگ ہر ہر معنیٰ میں اسلام اور کفر کی جنگ ہے۔ بلکہ یہ چیز جو ہمیں لبرلسٹ یلغار کے مقابلے پر درپیش ہے، ایسی جنگ سوائے ابتدائے اسلام کے ہمیں آج تک لڑنا نہیں پڑی۔
1-لبرلزم کا مقابلہ اسلامِ مجمل سے
خود ہمارے داعیانِ شریعت کو چاہئے کہ وہ اس بات کا ادراک کریں ۔ یہاں کوئی شریعت نافذ کرنے کےلیے نہیں بیٹھا ہوا۔ ہاں شریعت کے بعض مسائل پر ہماری اور جدت پسندوں کی چونچیں لڑانا یہاں کے خرانٹ طبقوں کا ایک واضح مقصد ضرور ہوتا ہے۔ اِس پورے عمل کے پیچھے ظاہر ہے شریعت لانا نہیں بلکہ شریعت سے جان چھڑوانا ہوتا ہے۔
[2] ایقاظ چونکہ کوئی عوامی مجلہ نہیں، اس لیے یہاں پر کچھ علمی موضوعات ہمارے زیربحث آجاتے ہیں۔ البتہ عوام میں اترتے وقت ہم بالکل ایک اور منہج سامنے لانا چاہیں گے؛ یہاں اس کا بیان ہے۔
[3] اسلام سے ’’مجمل وابستگی‘‘ اور کفر سے ’’مجمل براءت‘‘۔ امت کی زندگی میں بڑے بڑے بحرانوں کے وقت اختیار کروایا جانے والا منہج۔ شیخ صلاح الصاوی﷿ نے اس کی نہایت خوب تاصیل کی ہے۔ اس کی کچھ وضاحت ایک الگ مضمون میں دی جا رہی ہے
‫#‏حامدکمال‬ الدین

پاکستانی ‏آئین‬ میں‌ اسلامی دفعات کی حیثیت



پاکستانی ‫#‏آئین‬ میں‌ اسلامی دفعات کی حیثیت
از ‫#‏حامدکمال‬ الدین
بلاشبہ اپنے ہاں ‫#‏جمہوریت‬ کو اسلام کے کچھ جوڑ (Patches) بھی لگائے گئے ہیں ۔۔۔۔
مغرب کی کسی آزاد خیال عورت کا لباس مستعار لے کر مشرق کی ایک باحیا مسلم خاتون کے استعمال کے لائق بنانا ایک مشقت طلب کام ہے بلکہ مضحکہ خیز۔ اس میں آپ کو اتنے جوڑ لگانا پڑیں گے کہ ایک ازسرنو لباس تیار کرنا آپ کیلئے کہیں آسان ہوتا۔ پرائی چیز جتنی بھی بدل لی جائے پہچان میں پھر بھی آتی ہے۔ یہ بھی تب ہے اگر آپ واقعی اس میں تمام تر ’اسلامی تبدیلیاں‘ کر دینے پر مصمم ہوں۔ پھر اگر آپ اس کو بدستور وہ ’عالمی نام اور تاثر‘ دے رکھنے پر بھی بضد ہوں جو کہ اِس لبادۂ وقت کیلئے دنیا میں ’چلتا‘ ہے تب تو یہ عقدہ اور بھی بڑا ہو جاتا ہے۔ آپ کی ’ادھیڑ بن‘ پھر چلتی ہی رہتی ہے۔ کچھ یہی معاملہ اپنی اس جمہوریت کا بھی ہے۔
سلطانیِ جمہور کے اس عالمی شہرت یافتہ نظام میں برائے نام اسلامی تبدیلیاں کچھ ہو چکیں کچھ کی تجاویز ہر وقت زیر غور رہتی ہیں۔ اس عمل نے اب تک بہت سے مدوجزر دیکھے ہیں۔ بہت سی ادھیڑ بن ہو چکی ہے۔ رہی یہ بات کہ اس میں کوئی بہت ہی واضح اور اساسی تبدیلی کرکے اس کو اسلام کے ہم آہنگ ہی کر لیا جائے تو اس پر اعتراض یہی ہے کہ پھر اس کو جمہوریت کون کہے گا؟!!! منی سکرٹ کو اگر برقعہ ہی بننا ہے تو اس ’اسکرٹ‘ میں پھر کیا کشش رہ جاتی ہے!!! جمہور اور نمائندگان جمہور کے سب اختیارات اس حد تک محدود کر دیئے جائیں کہ اللہ اور رسول جہاں کوئی بات کر دیں وہاں کسی کو بحث تک کی اجازت نہ ہو اور کسی مخلوق کا اختیار صرف وہاں معتبر ہو جہاں شریعت خاموش ہو البتہ جہاں شریعت کی نص واضح ہو وہاں سب مخلوقات کے سب اختیارات کالعدم اور سب کو سرتسلیم خم کر لینا ہو ۔۔۔۔ تو ایسی ’جمہوریت‘ کو دُنیا میں کون پہچانے گا!؟
سو یہ اسلامی تبدیلیاں برائے نام ہی ہو سکتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم دو ہیں۔ ان ہر دو نقاط پر کچھ نظر ہم اس مضمون میں بھی ڈالتے چلیں گے۔۔۔۔
1) پاکستان کے آئین میں اللہ تعالیٰ کو حاکم اعلیٰ (Soverign) مانا گیا ہے۔
اصل دیکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ کیا اس بات نے خالق کے سامنے مخلوق کے سب اختیارات ختم کر دیے ہیں۔۔۔۔ یا مخلوق کا اختیار بہ مقابلہ فرمانِ خالق ابھی باقی ہے؟
جائزہ یہ لیا جانا ہے کہ کیا اس بات نے جمہوریت کا یہ عالمی اور آفاقی اصول کالعدم کردیا ہے کہ جملہ انسانی معاملات میں کسی مسئلے کا تعین __خالصتاً یہ دیکھنے کی بجائے کہ اس معاملے میں حق کیا ہے اور باطل کیا __اکثریت کے ووٹوں سے کیا جائے گا؟ کیا اس بات نے نمائندگانِ جمہور کے اختیارات کو پروردگارِ جمہور کے ’نازل کردہ‘ کا واقعتا پابند کردیا ہے اور کیا ’حاکمِ اعلیٰ‘ کے لفظ سے مراد انکے ہاں یہ لی جاتی ہے کہ خدا کے فرمائے ہوئے کے سامنے اب کسی کو دم مارنے کی کوئی مجال نہیں! یا پھر یہ ایک ’برائے نام‘ تبدیلی ہے اور جمہوریت کا عالمی کفر اس میں ابھی باقی ہے؟
’حاکم اعلیٰ‘ سے مراد کیا ہے۔۔۔۔؟
اصل بات یہ ہے کہ قانون کی ایک اپنی زبان ہے۔ دستور کسی کو کیا ’عہدہ‘ دیتا ہے، یہ ایک الگ بحث ہے اور دستور کسی کو عملاً کیا ’اختیار‘ دیتا ہے، بالکل ایک الگ بحث۔ ’عہدہ‘ اور ’اختیار‘ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ان میں سے ایک ہو تو وہ دوسرے کو ہر حال میں مستلزم نہیں۔ مثلاً ’صدر‘ ایک عہدہ ہے۔ ’وزیر اعظم‘ ایک عہدہ ہے۔ اپنے ملک میں یہ دونوں ہی مستقل عہدے ہیں البتہ ان کے اختیارات میں ہم جانتے ہیں آئے روز اَدل بدل ہوتا ہے اور آئے روز ہی کسی نہ کسی کے ’اختیارات‘ میں نقب لگتا ہے۔ یہاں صدر ہمیشہ صدر ہی کہلاتا ہے اور وزیر اعظم وزیر اعظم ہی رہتا ہے مگر ’اختیارات‘ ہیں جو گردش کرتے رہتے ہیں۔ کسی وقت صدر یہاں حد درجہ با اختیار بلکہ سیاہ وسفید کا مالک دیکھا گیا ہے تو کسی وقت محض ایک اعزازی منصب۔ صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات میں توازن لائے جانے کی کوششیں ہمارے سامنے یہاں ہوتی ہی رہتی ہیں۔
چنانچہ مسئلہ اس نظام کے اندر یہ نہیں کہ کسی کو یہاں کیا عہدہ یا کیا لقب حاصل ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کسی کو یہاں کیا اختیار حاصل ہے؟ یہاں سینٹ اور اسمبلی کے مابین ’اختیارات‘ کی تقسیم پر بحث ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ اور کابینہ کے عملی اختیارات کا مسئلہ اٹھ آتا ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے مابین ’اختیارات‘ کی تقسیم آئے روز موضوع بحث بنی رہتی ہے۔ کوئی بھی یہاں ایسا نہیں جو یہ دیکھے بغیر کہ اس کا اختیار کیا ہے محض ایک عہدے پر ریجھ جائے!
دستو راور قانون کی زبان واقعی بڑی عجیب ہے۔ اس زبان میں آپ کسی کو بادشاہ کہ دیں __جیسا کہ برطانیہ میں چلتا ہے__ تو ضروری نہیں ’اختیارات‘ کے معاملہ میں بھی اس سے مراد ’بادشاہ‘ ہی ہو۔ آپ سوچئے جمہوریت میں ’بادشاہ‘ کا کیا کام؟ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ آگے چل کر اس کو عملاً کیا اختیار دیا جاتا ہے۔ عہدہ یا القاب تو نرا اعزاز ہے!
پس یہ نہایت غور طلب نکتہ ہے۔ ملوک یعنی بادشاہ اور شہنشاہ تو ملوکیت میں ہوتے ہیں، جمہوریت میں ’بادشاہ‘ کہاں سے آگئے؟! مگر برطانیہ سمیت کئی یورپی ملکوں میں، کہ جو جمہوریت کے باب میں ایک مرجع اور حوالہ کی حیثیت رکھتے ہیں، آج تک ’بادشاہ‘ پائے جاتے ہیں! ’جمہوریت‘ میں ’بادشاہ‘؟!!! مگر اِس پر متعجب نہ ہوں۔ اِس کا جواب جمہوریت کے ’ہدایتکار‘ یہ دیتے ہیں کہ برائے نام عہدوں سے کچھ فرق نہیں پڑتا، اصل چیز پارلیمنٹ کا اختیار ہے!
اب جب اصل مسئلہ عہدہ واعزاز کا نہیں بلکہ ’اختیارات‘ کا ہے اور اصل واردات ’اختیارات‘ کے مسئلہ پر ہی ہاتھ صاف کرکے ڈالی جاتی ہے تو ’حاکم اعلی‘ کے موضوع پر بھی ہمیں عہدہ والقاب کو نہیں بلکہ ان اختیارات کو دیکھنا ہے جو اس نظام کی رو سے ’حاکم اعلی‘ کو بالفعل حاصل ہیں۔
بنیادی طور پر یہاں جو بھی شرعی قوانین کی بحثیں اور شرعی بل زیر غور آتے ہیں۔۔ یا مثلاً آپ دیکھیں کہ ملک کی متعدد دینی جماعتیں تہتر کا آئین پاس کر دیا جانے کے بعد بھی، یعنی خدا کو ’حاکمِ اعلیٰ‘ تسلیم کر لیا جانے کے بعد بھی، کئی سال تک ’شریعت بل‘ کیلئے سڑکوں پر نکلی دیکھی جاتی ہیں۔۔۔۔ تو اِن سب بحثوں اور مطالبوں کا موضوع دراصل ’حاکم اعلی‘ کا ’اختیار‘ ہی ہوتا ہے۔ کوئی پوچھے ’خدا کو حاکم اعلیٰ مان لیا گیا اور دستور میں باقاعدہ لکھ دیا گیا‘ تو اب مسئلہ پیچھے کیا باقی رہا؟! ’حاکم اعلیٰ‘ حکم دینے کیلئے ہی تو ہوتا ہے! پس آپ دیکھتے ہیں القاب سے قطع نظر، عملی اختیارات کے حوالے سے ’حاکم اعلی‘ کی بابت بھی اِس لحاظ سے ایک بحث یہاں چلتی ہی رہتی ہے۔ سو یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ آپکے یہاں واضح انداز میں کس چیز پر ’حاکم اعلی‘ کا اختیار تسلیم کیا گیا ہے؟
قانون دان اور ماہر آئین پس ہمیں دستور میں ’حاکم اعلی‘ کا لفظ دکھانے کی بجائے یہ بتائیں کہ ’حاکم اعلی‘ کا عملاً کیا اختیار ہے؟؟؟؟
قبل اس کے کہ قانون دان اور ماہرین آئین ہمیں اس سوال کا جواب دیں، بات کو آسان کرنے کیلئے ہم اس بات کا پہلے تعین کرلیتے ہیں کہ دین اسلام میں خدا کو ’حاکم اعلی‘ (Soverign) ماننے کاکیا مطلب ہو سکتا ہے اور قرآنی آیت اِنِ ال ´حُک ´مُ اِلَّا لِلّٰہ کا کیا مفہوم ایک صاحبِ ایمان کے ذہن میں آسکتا ہے۔ پھر ہم قانون دانوں اور ماہرین آئین سے صرف اتنا جاننا چاہیں گے کہ ان کے اس آئین اور نظام میں بھی ’حاکم اعلی‘ کا کیا یہی مفہوم ہے جو ہم دین اسلام میں پاتے ہیں یا ان کے ہاں اس کا کوئی دوسرا مفہوم ہے؟
واضح بات ہے کہ خدا نے بنی نوع انسان سے جو کلام کرنا تھا وہ اس نے نبی آخر الزمان پر نازل فرما دیا ہے اور اپنے اس نبی کی زندگی زندگی اس نے ’دین‘ مکمل کردیا اور اپنی اس نعمت کا اتمام فرما دیا ہے۔ اَحکَمُ الحَاکِمِین، جس کا ایک ترجمہ Soverign بھی بنتا ہے یعنی حاکم اعلی، اپنی مخلوق سے جو بھی بات کرے گا وہ اپنے رسول ہی کے ذریعے کرے گا، جو کہ وہ کر چکا ہے۔ انسانوں کی سیاسی زندگی میں دین اسلام کی رو سے اسکے احکم الحاکمین ہونے کا یہی مطلب ہے کہ اس کا فرمایا ہوا حرف آخر ہو۔۔۔۔ حرف آخر یعنی اس کے بعد کسی کی بات نہیں۔ اسکے بول دینے کے بعد کوئی نہیں بولے گا اور اسکے فیصلہ کر دینے کے بعد کسی کا فیصلہ نہیں حتی کہ بحث تک نہیں۔
یوں اَحکَمُ الحَاکِمِین (حاکم اعلیٰ) کا یہ واضح اختیار ہے کہ وہ آسمان سے کوئی واضح اور قطعی آیت اتار کر __جو کہ وہ اتار چکا ہے __ یا اپنے رسول کی زبان سے واضح اور قطعی نص کہلوا کر __جو کہ وہ کہلوا چکا ہے__ پارلیمانی مخلوقات کا پاس کیا ہوا کوئی بھی قانون کالعدم کر دے یعنی ملک کی قانون ساز ہستیوں کا جاری کیا ہوا قانون قرآن کی ایک آیت یا رسول اللہ ﷺ کے فرمان سے واضح اور قطعی طور پر متصادم ہونے کی بنا پر آپ سے آپ کالعدم ٹھہرے۔
اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء (الاَعراف: 3)
”جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو“۔
خدا جو اتار دے، وہ خود بخود قانون ہو اور خدا کے اتارے ہوئے سے جو چیز متصادم ہو ___خواہ وہ پارلیمنٹ کا ’اتارا‘ ہوا ہو یا کسی اور ہستی کا___ وہ خودبخود کالعدم ہو اور ’قانون‘ و ’دستور‘ کہلانے کا تو حق تک نہ رکھے۔
یہ ہے دینِ اسلام۔ قانون دان بتائیں کیا آپ کا آئین اور نظام بھی یہی کہتا ہے یا ’اختیارات‘ کے معاملے میں ’حاکم اعلی‘ کی بابت ان کا جواب کچھ اور ہے؟
ابھی ہم اَحکَمُ الحَاکِمِین کے ’اختیارات‘ کی بابت دو باتیں دین اسلام میں دیکھ آئے ہیں۔ یعنی اس کا اتار ہوا خودبخود __اور کسی اضافی شرط کے بغیر __ قانون ہو اور اس سے متصادم ہر کسی کی بات خودبخود کالعدم۔ ان دونوں باتوں کیلئے کوئی شرط ہو سکتی ہے تو صرف ایک اور وہ یہ کہ کسی بات کی نسبت اس سے یا اس کے نبی سے بہرحال پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہو اور اس کی دلالت متعین ہو۔
آپکی اس جمہوریت میں اللہ وحدہ لاشریک کیا عین اسی معنی میں ’حاکم اعلیٰ‘ ہے جوکہ اُسکے احکم الحاکمین ہونیکا شرعی مفہوم ہے۔۔ یا انکے نظام میں یہ _معاذ اللہ _ محض ایک اعزازی منصب ہے؟
آپ کی جمہوریت اِس سوال کا جواب کیا دیتی ہے؟ ”خدا کا فرمایا ہوا“ یہاں مذہبی تقدس تو آپ سے آپ رکھتا ہے مگر قانونی حیثیت آپ سے آپ نہیں رکھتا۔ ”قانونی حیثیت“ پانے کیلئے ”خدا کے فرمائے ہوئے“ کو بہرحال ”اکثریت“ کے ہاں سے پاس ہونا ہوتا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں، اکثریت اگر ”خدا کے فرمائے ہوئے“ کو پاس نہیں کرتی تو ”خدا کا فرمایا ہوا“ صرف ”مذہبی تقدس“ رکھے گا نہ کہ کوئی ”قانونی حیثیت“!!!
وَتَعَالَى عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا
انکا شرک یہی ہے۔ جب تک کوئی چیز اللہ اور اسکے رسول کی نسبت سے پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی یا جب تک کسی بات کی شرعی دلالت متعین نہیں ہوتی تب تک اسلام میں اس کو ”مذہبی تقدس“ بھی حاصل نہیں۔ مگر جب اس کا ثبوت اور دلالت شرعی ضابطوں کی رو سے متعین ہو جائے ۔۔۔۔ یعنی جب ایک بار اس کو ’مذہبی تقدس‘ حاصل ہو گیا تو ’قانونی حیثیت‘ خودبخود حاصل ہو گئی۔ ان دو باتوں کو الگ الگ کرنا ہی ان کا وہ شرک ہے جو عالمی طور پر ”سیکولرزم“ کے نام سے معروف ہے۔ سیکولرزم جمہوریت کا ایک جزولاینفک ہے اور وہ ’اپنی‘ اس جمہوریت میں بھی پوری طرح ساتھ آیا ہے۔
ہاں پارلیمنٹ کو __بلکہ ہر مخلوق کو __ یہ پورا حق ہے کہ وہ یہ سوال کرے کہ خدا نے فلاں بات کہی ہے یا نہیں کہی اور آیا اس کی یہ دلالت بنتی ہے یا نہیں؟ حتی کہ ان دونوں میں سے کسی ایک بنیاد پر کسی بات کے رد کرنے کا بھی اس مخلوق کو پورا پورا حق ہے کیونکہ ہمارا دین پوپ کا دین بہرحال نہیں اور نہ ہی ہم تھیو کریسی پر ایمان رکھتے ہیں __ بشرطیکہ اس کو رد کرنے والی وہ مخلوق شریعت کی کسی بات کے ثبوت یا دلالت کا تعین کرنے کی فقہی صلاحیت رکھتی ہو __مگر یہ کہ ایک بات کی نسبت اور دلالت کا اللہ و رسول سے ثبوت تو واضح ہو لیکن پھر بھی اس کو صرف ’مذہبی تقدس‘ ملے اور ’قانونی حیثیت‘ پانے کیلئے وہ ہنوز کسی مخلوق کی منظوری (Approval) کی محتاج ہو اور اسکی یہ ”احتیاج“ پوری ہوئے بغیر وہ قانونی حیثیت سے محروم ہی رہے تو اسکا کفر ہونا اظہر من الشمس ہے۔
خدا کے ہاں سے جب کوئی چیز اترتی ہے تو وہ ’مذہبی تقدس‘ اور ’قانونی حیثیت‘ ہر دو کے ساتھ بیک وقت نازل ہوتی ہے اور رسول کے حکم کو بھی بیک وقت یہ دونوں حیثیتیں حاصل ہوتی ہیں۔ رسول صرف ’مذہبی‘ معنی میں پیروی کرانے کیلئے مبعوث نہیں کیا جاتا بلکہ مطلق اطاعت کیلئے مبعوث ہوتا ہے۔
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا (النساء: 65 ۔ 64)
”ہم نے جو بھی رسول بھیجا ہے وہ اس لئے تو بھیجا ہے کہ خدا کے حکم سے اس کی اطاعت وفرمانبرداری کی جائے۔ اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوتا کہ جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے، اور رسول بھی ان کیلئے معافی کی درخواست کرتا، تو یقینا اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے۔ نہیں اے محمد۔ تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں بلکہ سربسر تسلیم کرلیں“۔
٭٭٭٭٭
”حاکم اعلیٰ“ ، ”سلطانیِ جمہور“ اور ” ‫#‏سیکولرازم‬“ کے ضمن میں اس مسئلے کی کچھ اور وضاحت کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔۔۔۔
خطابات اور القابات کو اگر ایک طرف رکھ دیا جائے۔۔۔۔ تو فحوائے جمہوریت یہی ہے کہ اکثریت کا فرمایا ہوا ہی مستند ہوگا اور زیادہ ووٹوں سے پاس کیا جانے والا ہی ”قانون“ کہلائے گا اور یہ کہ اکثریت کی موافقت حاصل ہوئے بغیر کوئی چیز بھی، خواہ وہ خدا کا فرمایا ہوا کیوں نہ ہو، آپ سے آپ قانون کہلانے کا حق نہ رکھے گا ۔۔۔۔ اگرچہ وہ خدا اور رسول کا واضح ترین حکم کیوں نہ ہو اور اپنی دلالت میں قطعی ترین کیوں نہ ہو اور خواہ چودہ سو سال سے لے آج تک فقہائے اسلام میں سے کسی ایک نے بھی کبھی اس پر اختلاف نہ کیا ہو جس کی ایک مثال __اور نہایت واضح مثال __ سود کی حرمت ہے، اور اس کی ایک اور مثال فحاشی و عریانی کی شناعت۔
چنانچہ خطابات اور القابات کو اگر ایک طرف رکھ دیا جائے۔۔۔۔ تو اس نظام کی رو سے مذہب مذہب ہے اور قانون قانون۔ واقعتا یہ نظام اس پر معترض نہیں کہ ”مذہب“ کی کوئی بات کسی وقت ”قانون“ بنا دی جائے۔ مگر اس کی رو سے ہیں یہ دو الگ الگ چیزیں۔ اور یہی بات غور طلب ہے۔ ”مذہب“ یہاں قانون بن ضرور سکتا ہے البتہ ”مذہب“ خود بخود ”قانون“ نہیں۔ دوبارہ یہ جملہ نوٹ فرما لیجئے: مذہب قانون بن ضرور سکتا ہے مگر مذہب خودبخود قانون نہیں۔۔۔۔
جبکہ اللہ کے ہاں ’دین‘ وہ ہے جو بیک وقت ”مذہب“ بھی ہو اور ”قانون“ بھی۔ اللہ کے ہاں سے جو کچھ اتر آیا ہے، کسی بھی اضافی شرط کے بغیر، وہ آپ سے آپ ”مذہب“ ہے اور آپ سے آپ ہی ”قانون“۔ جتنا وہ ”مذہب“ ہے اتنا ہی وہ ”قانون“ ہے۔ اس کی ایک حیثیت کو ماننا اور دوسری کو نہ ماننا خدا کے ساتھ کفر ہے۔
خدا کے ہاں سے جو نازل ہوا یعنی ”مَا أَنزَلَ اللّهُ“ جس طرح کسی مخلوق کے ”پاس“ کرنے یا نہ کرنے پر اس کا ”مذہب“ ہونا موقوف نہیں __بس صرف اس کا ثبوت اور دلالت واضح ہونا ضروری ہے __ اسی طرح کسی کے ”پاس“ کرنے یا نہ کرنے پر اس کا ”قانون“ ہونا بھی موقوف نہیں، صرف اس کا ثبوت اور دلالت واضح ہونا ضروری ہے۔
”سیکولرزم“ اور ”سلطانی جمہور“ البتہ اسلام سے متصادم نظام ہیں ۔۔۔۔
”سیکولرزم“ کی رو سے دین خود بخود اور کسی بھی اضافی شرط کے بغیر ”مذہب“ مانا جا سکتا ہے ”قانون“ نہیں۔ اس کے قانون ہونے کیلئے البتہ ایک اور شرط درکار ہے۔
یہ ’اور شرط‘ کیا ہے؟ اس کا جواب ”سلطانیِ جمہور“ کا عقیدہ دیتا ہے: ”مذہب“ کو ”قانون“ کا رتبہ ملنے کیلئے ”شرط“ یہ ہے کہ وہ ”اکثریت“ کے ہاں سے پاس ہو۔
آپ کی جمہوریت نے، دیکھ لیجئے، ’حاکم اعلی‘ سے اپنے یہ دونوں خواص کسی نہ کسی طرح بچا ہی لئے!!!!
یوں ”دین“ کو ”مذہب“ اور ”قانون“ میں بانٹ کر سیکولرازم ہمیں عملاً کلیسا کے دھرم میں داخل کر دیتا ہے بے شک ہم اس بات کو ’ذرا مشکل سے‘ ہی محسوس کریں۔
سیکولرزم زندگی کو عملاً دو خداؤں کے بیچ میں بانٹ دیتا ہے۔ ایک وہ خدا جو ”مذہب“ کے دائرے میں پوجا جاتا ہے اور ایک وہ خدا جو ”قانون“ کے دائرے میں پوجا جاتا ہے۔ ”مذہب“ کے خدا کو ”قانون“ کے دائرے میں بہرحال ”قانون“ ہی کے خدا کی منظوری درکار رہتی ہے۔ ”قانون“ کے خدا کی منظوری کے بغیر ”مذہب“ کا خدا جو مرضی کہہ لے اسکا کہا ”مذہب“ تو ہوتا ہے ”قانون“ نہیں۔ یہ سیکولرزم تقریباً پورے کا پورا آپکی جمہوریت میں بھی ساتھ ہی درآمد ہوا ہے۔
یہاں ”سیکولرزم“ کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ اب ”سلطانیِ جمہور“ کا عقیدہ یہاں اس ’خدا‘ کا تعین کرتا ہے جس کو ”قانون“ کے دائرے میں پوجا جانا ہے اور جس کے ہاں سے صادر ہونے والا ”قانون“ کہلاتا ہے اور جس کے ”پاس“ کئے بغیر ”مذہب“ کی بات کو صرف مذہبی تقدس ہی حاصل رہتا ہے ۔۔۔۔ یہ ”نمائندگان جمہور“ ہے۔
جبکہ دین اسلام یہ ہے کہ ”مذہب“ کا معاملہ ہو یا ”قانون“ کا اللہ اور اس کا رسول جب کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو سب پارلیمانی وغیر پارلیمانی مخلوقات صرف دو لفظ کہنے کی مجاز و روادار پائی جائیں: سَمِعنَا وَ اطَعنَا”ہم نے سنا اور ہم تابع فرمان ہوئے“۔ اس دائرے میں کسی مخلوق کو اختیار کہاں؟ اللہ کے ہاں دین بس یہ ہے۔ اِنَّ الدِّی ´نَ عِن ´دَ اللّٰہِ ال ´ِاس ´لاَم ”دین اللہ کے ہاں فرماں بردار ہوجانے کا نام ہے“۔ ”فرمانبرداری“ کے سوا ہر روش بس شیطان کا بہکاوا ہے۔
ِإِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ (یوسف: 40) ”فرماں روائی کا اقتدار، اللہ کے سوا کسی کیلئے نہیں ہے اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ طریق زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں“۔
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ (آل عمران: 85) ”اس فرماں برداری کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام ونامراد رہے گا“۔
2) شریعت کی تعلیمات کے خلاف کوئی قانون نہ بنایا جائے گا!
ایک مجموعی تفسیر an overall interpretation کو سامنے رکھتے ہوئے، دستور کی ایک نہایت غیر مؤثر دفعہ، جس کے Legal effect میں دستور ہی کے اندر جگہ جگہ نقب لگا رکھے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں، اسلامی عقیدہ کی رو سے ما انزل اللہ کی جو آپ سے آپ قانونی حیثیت Legally binding status ہے اس کی بابت ہنوز جواب ندارد۔
اصل واردات ’قانون بنانے کا حق‘ رکھ کر ہی ڈال لی جاتی ہے(1)۔ قانون ’بنانے‘ کا کیا مطلب؟ خدا کی شریعت ہی تو قانون ہے بلکہ سب سے اٹل قانون ہے۔ مسلمان قرار پانے کیلئے آپ کو اسی بات پر تو ایمان لانا ہے کہ خدا نے جو شریعت اتار دی، آپ کیلئے اور آپ کے پورے معاشرے کیلئے __ مرتے دم تک __ اب وہ ہر قانون سے بالاتر قانون ہے اور ہر دستور سے بالاتر دستور۔ یہ خدا کے ہاں سے ’پاس‘ ہو کر ہی تو زمین پہ اتری ہے، اس کو ’پاس‘ کرنا اور اس کا ’قانون‘ قرار پانا کسی مخلوق کے ہاتھوں ’پاس‘ ہونے پر موقوف رہنا چہ معنیٰ؟
یعنی ’پاس‘ کرنے کا حق اب بھی ظالموں نے اپنے ہی پاس رکھ چھوڑا ہے البتہ ہمیں یہ اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ شریعت کی تعلیمات کے خلاف کوئی چیز ’پاس‘ نہیں کر دی جائے گی تاکہ ہم اِن کے اس ’حق‘ کو کہ یہ شریعت کو ’پاس‘ کریں گے اور یہ کہ یہی لوگ ’پاس‘ کریں گے تو شریعت کو ’قانون‘ ہونے کا رتبہ حاصل ہوگا، ایک بار تسلیم کر لیں۔ اِدھر ہم اِن کا یہ ’حق‘ تسلیم کر لیں گے، اُدھر یہ اپنے اِس ’حق‘ کو ’توسیع‘ دینے لگ جائیں گے اور وہ بھی باقاعدہ ’آئینی‘ طریقے سے ہی!
اچھا تو اگر پھر بھی یہ مالک الملک کی شریعت کے خلاف کچھ ’پاس‘ کر دیں اور بہت سے خلاف شریعت قوانین کو بھی پوری طرح ’برقرار‘ رکھیں، جیسا کہ اِس وقت ہے، تو اِن کو اِس فعل سے روکنے اور اِن کے اِس اقدام کو ’غیر آئینی‘ اور ’کالعدم‘ قرار دینے کیلئے آپ کے اِس آئین کے پاس کیا ہے؟۔۔۔۔ وہ بہت کچھ جو قانون اور آئین کے نام پر مالک الملک کی شریعت کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے شریعت کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی کو اگر یہ برقرار رہنے دیتے ہیں، اور جوکہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ سامنے کی حقیقت ہے۔۔۔۔ تو ذرا یہ بھی تو معلوم ہو کہ اس صورت میں کوئی ان کا بگاڑ کیا سکتا ہے؟! کیا یہی کہ شریعت کے پرستار ’پانچ سال‘ تک انتظار کریں اور وہ بھی صرف اس واقعۂ عظیم کو روپزیر کرانے کیلئے کہ ووٹ کی ایک عدد پرچی ان کی بجائے اب کسی اور کی نذر کر کے آئیں گے اور پھر ’پانچ پانچ سال‘ کر کے اپنا یہ ’جمہوری حق‘ استعمال کرتے چلے جائیں گے!!!!!؟ کہا گیا کہ ’انتظار‘ کرنے کے علاوہ، اس دوران، ہم فیڈرل شریعت کورٹ جا کر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ’دستور کا طے کردہ‘ یہ طریقہ بھی ہم نے آزما ڈالا، شریعت کو ’قانون‘ کا رتبہ دلوا لانے کا یہ راستہ بھی تھوڑا سا چل کر آگے کہیں گم ہو جاتا ہے اور کوئی دو عشرے سے مسلسل گم چلا آتا ہے۔۔ اور شریعت ’دیارِ پاکستان‘ میں پھر ’قانون‘ کا رتبہ پائے بغیر رہتی ہے! شریعت ’نافذ‘ ہونے کی بات ابھی ہم نہیں کر رہے، شریعت کا ’نافذ‘ ہونا ابھی بعد کی بات ہے، ابھی تو شریعت کو صرف ’قانون‘ کا رتبہ ملا ہونے کا سوال ہے!!! اور ’آئین کا اسٹیٹس‘ تو خیر قانون سے بھی بڑی ایک چیز ہے!!!
تصور کیجئے خدا کی نازل کردہ بین شریعت اِس ملک میں آپ سے آپ نہ صرف ’قانون‘ شمار ہو بلکہ ’آئین‘ کا رتبہ رکھے بلکہ آئین سے بھی بلند تر رتبہ رکھے اور ماہرینِ آئین جس طرح آج ’آئین‘ کا نام لے کر ہر کسی کو چپ کراتے ہیں، عین اسی طرح بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر یہ ایک دوسرے کو ”شریعت“ کا نام لے کر چپ کرایا کریں!!! تصور کیجئے ان عدالتوں اور ایوانوں پر کوئی دن ایسا آئے کہ یہ کہہ دیا جانے کے بعد کہ فلاں بات کا فیصلہ اللہ اور اسکے رسول نے کر دیا ہے، زبانیں بند، بحثیں ختم اور گردنیں جھک جائیں! کون اختلاف کر سکتا ہے کہ ”اسلامی آئین“ اصل میں یہ ہے؟! کوئی پوچھے یہ خوبصورت ’دفعہ‘ جو ہمیں سنانے کیلئے رکھی گئی ہے اور جس کو غیر مؤثر کر رکھنے کیلئے اس آئین کے اپنے ہی اندر ان گنت انتظامات باقاعدہ محنت اور قصد کے ساتھ کر رکھے گئے ہیں، یہ دفعہ آئینی دستاویز کے مجموعی مفہوم کے لحاظ سے مؤثر و قطعی کتنی ہے؟
آئین کے ماہرین بھی یہیں ہیں اور آئین کے حمایت کنندگان بھی یہیں تشریف فرما ہیں، براہ مہربانی وہ ہمیں دستور سے کسی انشائیہ جملے پر مبنی دفعہ پڑھ کر نہ سنائیں یہ دفعات ہم نے بہت سن لی ہیں وہ ہمیں صرف یہ بتائیں کہ جو لوگ مالک الملک کی اتاری ہوئی شریعت کو اس ملک میں قانون کا رتبہ ملا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں مگر وہ اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ الیکشن میں ’بھرپور کامیابی‘ حاصل کر کے وہ پارلیمنٹ میں اپنی ’اکثریت‘ شو کر ڈالیں، آپ کے آئین کی رو سے ان کو اب مزید کیا کرنا ہے؟ کوئی جواب۔۔۔۔؟؟؟؟؟
اگر وہ یہ فرمائیں کہ حوصلہ رکھیں دستور کی ایک اپنی زبان ہوتی ہے اور ایک اپنا طریق کار، تو پھر یہی تو وہ بات ہے جو ہم اپنے اسلام پسند بھائیوں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دستور کی ایک اپنی زبان اور اپنا طریقۂ کار ہے اس سے کسی ایک خوش نما دفعہ کو پڑھ لینا اور اس سے ماقبل و مابعد کو نظر انداز کرتے ہوئے، خصوصاً دستور کی ’خاص زبان‘ اور ’طریق کار‘ کو نظر انداز کر رکھتے ہوئے، اس ایک ہی دفعہ سے اپنے سب مطالب ثابت سمجھنا نادرست ہے۔ قانون کی زبان میں ایک بات ایک جگہ کیجاتی ہے اور اس سے متعلقہ ’اگر مگر‘ اور ’شوشے شذرے‘ پوری دستاویز میں بکھیر رکھے جاتے ہیں(2)۔ بہت سی باتیں ایک ہاتھ سے دے کر دوسرے ہاتھ سے واپس بھی لے لی جاتی ہیں۔ آئین کی ایک دفعہ میں فیڈرل شریعت کورٹ کا جاں فزا مژدہ سنایا جا سکتا ہے اور کسی دوسری دفعہ میں اسی فیڈرل شریعت کورٹ کے ہاتھ پیر باندھے جاسکتے ہیں۔ پس اصل بات یہ ہے کہ کسی دستاویز کا ایک مجموعی مفہوم لیا جائے اور پھر ہی کسی چیز کی آئینی یا قانونی حیثیت کا تعین کیا جائے۔
پس سوال صرف یہ ہے کہ کوئی خلافِ شریعت قانون ’نہ بن سکنے‘ اور موجودہ خلافِ شریعت قوانین کے ’لازماً شریعت کی مطابقت میں لائے جانے‘ کے اس مژدۂ جانفزا کی آئینی قطعیت کس درجے کی ہے اور یہ کہ اس بات کی قطعیت کو ’محل نظر‘ ٹھہرا دینے یا متاثر کر دینے والی اشیاءتو آیا اِس دستور کے اپنے ہی اندر نہیں پائی جاتیں؟؟؟ یعنی، مثال کے طور پر، آپ کا آئین جب کہتا ہے کہ کوئی شخص تیسری بار ملک کا وزیر اعظم نہیں بن سکتا تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ واقعتا کوئی شخص تیسری بار وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔ اور آئین نے ’واقعی‘ جب یہ کہہ دیا ہے تو کوئی لاکھ اس کو وزیر اعظم بنائے وہ وزیر اعظم بن ہی نہیں سکتا۔ جی ہاں، ’آئین‘ ایسی ہی ایک چیز ہے۔ اس کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اندر اکثریت حاصل ہو تو بھی وہ وزیر اعظم بننے کا سوچے گا تک نہیں، جب تک کہ وہ یہ آئینی رکاوٹ ہی آئینی طریقے سے دور نہ کر لے۔ ایوان کا کوئی فلور اس کو وزیر اعظم بنانے کی قرارداد ’ووٹنگ‘ کیلئے تو کیا ’بحث‘ کیلئے ہی قبول نہ کرے گا۔ کیونکہ آئین اس مسئلے پر واقعی بہت واضح ہے! یہاں ہم کہیں گے: آئین کی رو سے ایک چیز واقعتا نہیں ہو سکتی کیونکہ دستور کی کوئی اگر مگر یا کوئی شوشہ شذرہ اس بات کے معارض ہے ہی نہیں۔ مگر ’خلاف شریعت قانون نہ بن سکنے‘ اور ’خلاف شریعت قوانین کو شریعت کے موافق بنانے‘ کا مطلب بھی کیا ویسا ہی قطعی ہے کہ آئین کی ایک دفعہ نے اگر کہہ دیا کہ ایک چیز نہیں ہوگی تو وہ چیز اب کسی قیمت پر کبھی ہو ہی نہ سکے، یا پھر اس باب میں ’اگر مگر‘ کا مفہوم دینے والے کئی حصے آپ کے اِسی آئین میں ہی باقاعدہ طور پر پائے جاتے ہیں بلکہ اس مقصد کیلئے باقاعدہ طور پر رکھے گئے ہیں؟ آپ خود ہی سوچئے یہ بات آئین میں اتنی ہی واضح اور قطعی ہوتی کہ شریعت کے واضح مسلمات سے متصادم ایک قانون کی یہاں کسی صورت گنجائش ہی نہیں تو یہ سب غیر اسلامی قوانین کیا یہاں کالعدم نہ ہو گئے ہوتے!؟ لیکن جب یہ خلافِ اسلام قوانین کالعدم نہیں ہوئے بلکہ پوری طرح ساری المفعول ہیں تو آخر کوئی تو بنیاد ہوگی جس کے بل پر ان ’خلافِ اسلام‘ قوانین کی آئینی حیثیت باقی رہتی ہوگی! خود ہمارے اسلام پسند بھائی ہی ان بنیادوں کا رونا روتے کئی بار دیکھے گئے ہیں! یہ انکار نہ کریں گے کہ ’شریعت بل‘ کی ضرورت بھی ایسے ہی کچھ رونوں کے باعث پڑی تھی ورنہ سیکولروں کے اس الزام سے بچنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ تو محض جونیجو و دیگر ’جمہوری‘ قوتوں کے مقابلے میں ضیاءالحق کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ایک کوشش تھی!
ہمارے اسلام پسند بھائیوں کا کوئی طبقہ ایک دستوری قسم کی جدوجہد پر ہی یقین رکھتا ہے تو ضرور رکھے، مگر اس نظام کو یہ سرٹیفیکیٹ دے دینا پھر بھی صحیح نہ ہوگا کہ یہ شرک سے نکل آیا ہے اور مالک الملک کے آگے گھٹنے ٹیک چکا ہے اور اُسکی شریعت کو قبول کر چکا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہیں کہ دستوری جدوجہد کا جو راستہ ہم نے اختیار کر رکھا ہے جاری ہے، کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے اور جب تک یہ مالک کی شریعت کے آگے تسلیم نہیں ہو جاتا ہماری جدوجہد ختم نہیں ہو گی۔ البتہ جب ہمارے یہ بھائی اس نظام کے حق میں یہ سرٹیفکیٹ دے دیتے ہیں کہ یہ نظام مالک الملک کے آگے تسلیم ہو گیا ہے تو تب البتہ ایک بہت بڑا خلط مبحث جنم لیتا ہے اور تب خود ہمارے ان بھائیوں کی جدوجہد کی راہیں بھی تنگ ہوتے ہوتے کہیں روپوش ہو جاتی ہیں اور انکو اپنی سرگرمی کا کوئی مؤثر و زوردار میدان چننے میں ہی دشواری پیش آنے لگتی ہے۔ اور تب یہاں کے سیکولر طبقوں کو دستور میں ایک نہایت غیر مؤثر صلاحیت کی حامل اس ’اسلامی دفعہ‘ کو ڈال دینے کا احسان قیامت تک ہم پر جتاتے رہنے کیلئے بھی ایک نہایت خوب بنیاد ہاتھ آتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ یہ تاثر دینے میں کامیاب رہتے ہیں کہ اس نظام کو ’اسلامی‘ کرنے کے معاملہ میں اسلام پسندوں کی جو کوئی منزل ہو سکتی تھی وہ تو کب کی آکر گزر چکی، یعنی نظام اب یہ پوری طرح اسلامی ہے صرف ’عمل‘ رہ جاتا ہے
اور اس پر کون کسی کو مجبور کر سکتا ہے؟ ہم بھی مسلمان ہیں، ایک کام خدا کیلئے کرنا ہے اور وہ حسب توفیق ہی ہو سکتا ہے، ہاں کوئی خلافِ آئین چیز ہے تو جائیں اس کو عدالتوں میں چیلنج کریں، باقی، اسلام پسند چاہیں تو کس نے روکا ہے اپنی اکثریت لے آئیں اور اس پر ’عمل‘ بھی کروا لیں!
یعنی مسئلہ ’عمل‘ رہ جاتا ہے نہ کہ ’نظام کا انحراف‘! باطل کو اسکے سوا کونسی شہادت درکار ہے؟
بہرحال ان سب دفعات کے باوجود، کہ جن کی بدولت کہ یہ نظام اپنا کچھ بھی تبدیل کئے بغیر لوگوں کی ایک تعداد کے نزدیک ’اسلامی‘ ہونے کی سند پا گیا ہے، یہ سوال جوں کا توں باقی ہے کہ خدا کے اتارے ہوئے واضح و قطعی احکامات کی اس نظام کے اندر ’قانونی حیثیت‘ کیا ہے؟
اب جہاں تک ’کتاب و سنت کے برخلاف ہرگز کوئی قانون نہ بن سکنے‘ کا تعلق ہے تو محض ایک مثال کے طور پر، اور ظاہر ہے اس پر بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں کہ ’کتاب وسنت کے برخلاف کوئی قانون نہ بن سکنے‘ کے معاملہ میں دستور کی یہ ایک نہایت غیر مؤثر دفعہ ہے۔۔۔۔ ہمارے سامنے پیس ٹی وی پر پاکستان کے ایک معروف ترین داعیِ دین جناب ڈاکٹر اسرار احمد بھارت کے ایک عظیم جلسہ عام میں خطاب کر تے ہوئے ’بھارتی مسلمانوں‘ کو یہ خراج عقیدت پیش کر کے آتے ہیں کہ بھارت ایسے ’سیکولر‘ ملک میں رہتے ہوئے بھی آپ لوگوں نے کسی کو اپنے ”مسلم عائلی قوانین“ کو ہاتھ نہیں لگانے دیا، جبکہ ہم پاکستانی مسلمان شرمندہ ہیں کہ اتنا بھی نہ کر سکے اور ہمارے وہ مسلم عائلی قوانین جن کو ہاتھ لگانے کی انگریز بھی کبھی جرأت نہ کر سکے تھے، پاکستان کے اندر اُن میں اب کئی ایک کھلی کھلی خلافِ شریعت اشیاءڈال دی گئی ہیں۔ (روایت بالمعنیٰ) ڈاکٹر اسرار صاحب کی یہ بات کہ انگریز بھی ہمارے جن عائلی قوانین کو ہاتھ نہیں لگا سکے تھے ’ہمارے‘ اِس نظام کے اندر تو وہ بھی سلامت نہ رہنے دیے گئے اور خود انہی کے اندر خلافِ اسلام قوانین ڈال دیے گئے، اس قدر سچ ہے کہ کوئی واقفِ حال اس سے انکار نہ کر سکے گا۔
غرض کون نہیں جانتا کہ جس دستور کی ایک دفعہ ہمیں وہ مژدہ سناتی ہے کہ کوئی قانون خلاف شریعت نہ بنے گا، اسی دستور کی ایک دوسری دفعہ، علاوہ کچھ دیگر اشیائ، مسلم عائلی قوانین کے موضوع تک پر ’فیڈرل شریعت کورٹ‘ کے ہاتھ باندھ کر آتی ہے؟!
دستور کی اِس ’امید افزا‘ دفعہ پر ہم کسی فنی بنیادوں پر یہاں بات نہیں کر رہے، البتہ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ دستور کی اس دفعہ کو ’بیلنس‘ کرنے کیلئے بہت کچھ اِس دستور کے اپنے ہی اندر موجود ہے۔ جہاں ہم اسلام پسند دستور سے حوالہ دینے کیلئے بہت کچھ پاس رکھتے ہیں وہاں ملک کے سیکولر طبقے بھی اپنی بات کے حق میں حوالہ دینے کیلئے اِسی دستور سے ہی بہت کچھ پاس رکھتے ہیں۔ یہ تو پارلیمنٹ میں کچھ پیش ہو پھر آپ دیکھیں گے کہ دستور کی یہ ’اسلامی دفعات‘ جو ابھی تک صرف ہمیں ہی سنانے کیلئے رکھی گئی ہیں اِن کا صحیح صحیح قانونی و آئینی اقتضاءدرحقیقت کیا ہے!
سوال یہ ہے کہ اگر یہ ’اسلامی دفعات‘ اپنے معنی و اقتضاءمیں اتنی ہی واضح اور دوٹوک ہیں تو پارلیمنٹ میں کچھ ’اسلامی قوانین‘ کے بل پیش کر کے اور کچھ ’خلافِ شریعت قوانین کو کالعدم ٹھہرانے‘ کے بل پیش کر کے آخر دیکھ ہی کیوں نہیں لیا جاتا کہ ’کیا بنتا ہے‘؟ اسکے نتیجے میں ملکی قوانین اگر شریعت کی موافقت میں لے آئے جاتے ہیں تو سارا مسئلہ ہی حل ہوجاتا ہے، اور اگر یہ دفعات پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہو کر کام نہیں دیتیں تو بھی ان ’اسلامی دفعات‘ کی تاثیر و قطعیت کی بابت دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی تو ہو ہی سکتا ہے، یہ بھی کوئی چھوٹی پیشرفت تو نہیں! تاہم یہ بات نوٹ کی جائے کہ دستور کی یہ اسلامی دفعات اگر پارلیمنٹ کے فلور پر کام نہیں دیتیں اور ’پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوؤں‘ کو خاموش نہیں کرا سکتیں، تو کیا یہ انصاف ہوگا کہ ان ’اسلامی دفعات‘ کا حوالہ دے کر صرف ہم ایسوں کو ہی خاموش کرایا جاتا رہے؟!!!!
کہا جاتا ہے یونان کے فلسفی بڑی صدیوں تک ’نظری‘ بحثیں کرتے رہے کہ دو مختلف وزن کے پتھر ایک سی بلندی سے گرائے جائیں تو ہلکے پتھر کی نسبت بھاری پتھر زمین پر پہلے گرے گا، البتہ ’فلسفی‘ ہونے کے باعث اتنا نہ کر پائے کہ دو مختلف وزن کے پتھر اٹھائیں اور گرا کر دیکھ لیں! بجائے اسکے کہ 1973ء سے لے کر اب تک، کہ تقریباً چار عشرے مدت بنتی ہے، ان ’اسلامی دفعات‘ کی آئینی صلاحیت و قطعیت پر صرف ’نظری‘ بحثیں کی جاتی رہیں، پارلیمنٹ میں جا کر ان دفعات کی یہ ’آئینی صلاحیت‘ آزما کیوں نہیں لی جاتی، کہ پتہ چل جائے ان دفعات میں فنی اعتبار سے جان کتنی ہے اور ان کو بے جان کر دینے کے انتظامات خود اسی دستور کے اندر کیا کیا ہیں؟؟!

adfly