Sunday, 14 August 2016

سرمایہ دارانہ عقیدہء‬ آزادی


سرمایہ دارانہ ‫#‏عقیدہء‬ آزادی
[Sermaya Darana Aqeeda e Azadi]
عقیدہ اور ‫#‏نظریہ‬ میں فرق:
دورِ حاضر کی اسلامی فکر کی یہ ایک عمومی کمزوری ہے کہ وہ عقائد اور نظریات میں فرق نہیں کرپاتی اور نظریات میں اختلاف کی بنیادپر عقائد میں اختلاف کا قلم لگاتی ہے۔ عقائد سے مراد ایمانیات ہیں۔ اسلامی ایمانیات میں ایمان با للہ ،ایمان بالرسالت،قبر ،حشر،قیامت،جنت دوزخ وغیرہ شامل ہیں۔ ان عقائد پر ایمان لانا مسلمان ہونے کے لیے لازم ہے، ہر وہ گروہ جومتذکرہ بالا عقائد پر ایمان نہیں رکھتا کافر ہے اور اس کو کافر کہنا درست ہے۔
نظریات سے مراد وہ تصورات Theories# ہیں جو عقائد کے اظہار کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً دیو بندی اور بریلوی مکتب فکر میں عقائد اسلامی کے فروغ کے لیے پیرومرید میں جس نوعیت کا رشتہ قائم کیا جانا چاہیے یہ ان رسوم و رواج کی ادائیگی کے بارے میں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت نہیں لیکن جن کا شرع مطہرہ کے احکام سے تصادم نہیں، اختلاف ہے۔ یہ ایک نظریاتی اختلاف ہے، اعتقادی اختلاف نہیں اور اس نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر کسی گروہ کو یا اس کے افراد کو دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جاسکتا۔
پچھلے مضامین میں ہم نے سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے مختلف نظریات، قوم پرستی، سوشلزم لبرل ازم، سوشل ڈیمو کریسی اور انارکزم، کی تفصیل بیان کی ہے۔ یہ سب سرمایہ دارانہ نظریات اس لیے ہیں (اور جدا جدا نظام ہائے زندگی نہیں) کیوں کہ ان کے ماننے والوں کے عقائد ایک ہیں۔ وہ سب سرمایہ دارانہ عقائد پر ایمان لاتے ہیں۔ اب ہم سرمایہ دارانہ عقائد کی تفصیل پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔
‫#‏سرمایہ‬ دارانہ عقائد:
سرمایہ دار انہ نظام زندگی کے تین بنیادی عقائد ہیں جن پر ہم جدا جدا گفتگو کریں گے،وہ یہ عقائد ہیں:
١۔آزادی Freedom#
٢۔مساوات (Equality#)
٣۔ترقی (Progress#)
جو شخص ان پر ایمان لے آتا ہے وہ ایک سرمایہ دار ہے اور سرمایہ دارانہ نظام زندگی اختیار کرتا ہے۔ ہر وہ مزدور جو آزادی، مساوات اور ترقی پر ایمان لے آئے اپنی تمام تر مفلوک الحالی کے باوجود ایک سرمایہ دارانہ طرزِ زندگی اختیار کرتا ہے اور ہم اس کو سرمایہ دار کہنے میں حق بجانب ہیں۔ اس کے برعکس حضرت سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہ اپنی تمام تر دولت مندی کے باوجود سرمایہ دار نہ تھے کیوں کہ وہ آزادی، مساوات اور ترقی پر ایمان نہیں لائے تھے۔ جب ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں تو ہم آزادی، مساوات اور ترقی کے وہ مطالب قبول کرتے ہیں جو تاریخ میں رائج ہیں۔
آزادی کیا ہے؟
یہاں اچھی سمجھ لینا چاہیے کہ ہم آزادی پر بحیثیت ایک نظری اصطلاح کے گفتگو کررہے ہیں۔ نظری اصطلاحات کے معنی لغوی نہیں ہوتے۔ آزادی کے لغوی معنی یہ ہیں کہ آپ کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس معاملہ میں مجبور نہیں ہیں مثلاً جانور حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ اس معنی میں آزاد ہیں لیکن وہ کلام (بمعنی گفتگو نہیں کرسکتے ان معنوں میں وہ مجبور ہیں)لغوی اعتبار سے آزادی ایک صفت اور صلاحیت ہے جیسے سانس لینے کی صلاحیت ہے کھانا کھانے کی صلاحیت ہے۔ اگر انسان کو یہ صلاحیت نہ دی جاتی تو خیر و شر میں تمیز کرنے کے قابل نہ بن سکتا اور وہ خلیفہ فی الارض کا فریضہ انجام نہیں دے سکتا۔ لیکن نہ سانس لینے کی صلاحیت کا فروغ نہ طبعی آزادی کا فروغ ایک مسلمان کا مقصدِ حیات ہوسکتا ہے۔ مقصدِ زندگی تو اس طبعی آزادی کو اللہ کے احکام کے تابع کردینا ہے اور اس اطاعتِ الٰہی کو عبادت کہتے ہیں۔ عبادت بھی ایک نظریاتی تصور ہے اور اس کے معنی لغت سے نہیں، بلکہ اسلامی کلامی اور فقہی تشریحات سے اخذ کیے جاتے ہیں۔
آزادی بحیثیت ایک نظریہ کے اٹھارویں صدی عیسویں کے یورپ میں ایجاد ہوئی اور اس تصور کی ایجاد کا سہرا دو اشخاص کے سر ہے۔ فرانسیسی سائنس دان ڈیکارٹ (Descartes) اور جرمن فلسفی کانٹ (Kant)ان کے خیال کے تحت انسان کا وجود اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سوچ سکتا ہے۔ ڈیکارٹ کا مشہور جملہ ہے I think therefore I am (میں سوچ سکتا ہوں لہٰذا میں موجود ہوں) کانٹ نے کہا کہ انسان کے ذہن کی ساخت اس نوعیت کی ہے کہ حواس خمسہ سے حاصل کی ہوئی اطلاعات کو صحیح تصورات (Concepts) کی شکل میں مرتب کرسکتی ہے۔ اور چوں کہ تمام انسانوں کے ذہن کی ساخت یکساں ہے لہٰذا ہر فرد ایک ہی نوع کے تصورات حواسِ خمسہ سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کرتا ہے۔
اس سے ثابت ہوا کہ انسان ذہن کی صلاحیتوں کو استعمال کرکے خود حقائق کا ادراک کرسکتا ہے اور حقائق کے ادراک کے لیے وہ خدا کا محتاج نہیں۔ انسان ان معنوں میں قائم بالذات ہے کہ حقیقت تک رسائی کے لیے اس کا اپنا ذہن اس کی رہنمائی کرسکتا ہے۔ رہے مذہبی تصورات تو ان کی کوئی علمی حیثیت نہیں۔ علم صرف ان حقائق تک محدود ہے جن تک حواسِ خمسہ کو رسائی حاصل ہے۔ باقی تمام حقائق علم کے دائرہ کار سے خارج ہیں اور ان کا خیر و شر اور انسانی معاملات کی تفہیم اور تشکیل سے کوئی تعلق نہیں۔
ان معنوں میں انسان فطرتاً آزاد ہے اور جو لوگ اپنے اس فطری حق کو استعمال نہیں کرتے وہ کانٹ کے مطابق نابالغ (Imature) ہیں۔ ہر انسان کو آزاد ہونا چاہیے، اس کو ھدایت کے حصول اور حق اور خیر کے تعین کے بارے میں صرف اپنے آپ پر انحصار کرنا چاہیے۔ نظام زندگی کو اس طرح مرتب کرنا چاہیے کہ ہر فرد اپنی فطری آزادی کا ادراک کرسکے اور اپنی عقل کے فیصلوں کی اطاعت کرسکے۔
کانٹ نے اپنے ہمسفر فلسفی ڈیوڈ ہیوم (David Hume) کی یہ رائے قبول کی کہ عقل زیادہ سے زیادہ انسانی خواہشات کی تسکین کا جواز پیش کرتی ہے۔ تنویری عقلیت (Enlightenment Rationality) خود غرضانہ عقلیت (Self interested Rationality ) ان معنوں میں ہے کہ یہ عقلیت تمام خواہشات نفسانی کی لامحدود تسکین کا جواز فراہم کرتی ہے۔ انسان کا حق ہے کہ وہ جو چاہنا چاہے چاہے۔ کوئی عمل بذاتِ خود حلال یا حرام، اچھا یا برا نہیں۔ ہر وہ عمل جائز ہے جو انسان پسند کرتا ہے۔ بشرطِ کہ اس عمل کے وقوع پذیر ہونے کے نتیجہ میں اپنے پسندیدہ عمل کو انجام دینے سے محروم نہ ہوجائے اس ضابطہ کوPrinciple of Universalizability کہتے ہیں۔
اس قاعدہ کے مطابق چوری کرنے کے عمل کا جواز پیش نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ کوئی یہ نہیں چاہ سکتا کہ ہر شخص کو چوری کرنے کی اجازت ہو۔ اس صورت میں خود اس کی املاک بھی چوری ہوجائیں گی اور یہ نا قابل قبول ہے، لیکن زنا با الرضا کا جواز ہے ۔کسی فرد کے زنا با الرضا کرنے سے کسی دوسرے کا زنا با الرضا کا ارادہ تکمیل تک پہنچنے سے نہیں رہ جاتا لہٰذا زنا باالرضا ایک (Universalizable) مستحسن فعل ہے۔ سرمایہ کی بڑھوتری، آزادی کا فرو غ ایک چیز کے دو نام ہیں۔ آزادی کا فرو غ سرمایہ داری کی تجسیم ہے کیوں کہ سرمایہ ایک ایسا سیال ہے جس سے آپ اپنی ہر خواہش پوری کرسکتے ہیں۔ ایسے میں آپ مسجد بھی بناسکتے ہیں اور شراب خانہ بھی۔ حلال گوشت کا کاروبار بھی کرسکتے ہیں اور خنزیر کی افزائش بھی اور سرمایہ Universalizable ہے، ہر شخص سرمایہ دار یعنی حاسد اور حریص بن سکتا ہے اور ایک شخص کا حرص اور حسد عمومی حرص اور حسد کے فروغ میں مزاحم نہیں معاون ہے۔ لہٰذا سرمایہ کی بڑھوتری اور آزادی کی بڑھوتری لازم و ملزوم ہیں اور سرمایہ دارانہ مارکیٹیں یعنی زر کا بازار (Money market) اور سٹے کا بازار (Capital Market)کسی شے اور عمل کی قدر صرف اس بنیاد پرملتی ہے کہ اس فعل کے انجام دینے سے یا اس شے کے بنانے سے سرمایہ کی رفتار ِبڑھوتری میں کتنا اضافہ ہورہا ہے۔ آزادی سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کی بنیادی قدر اس وجہ سے ہے کہ سرمایہ آزادی کی تجسیم، اس کی Concrete form کے اور فروغ آزادی، بڑھوتری سرمایہ کے علاوہ کچھ نہیں۔
آزادی کی اسلام کاری:
‫#‏لبرل‬ فکر سے متاثر مسلمان کہتے ہیں کہ آزادی کا مفہوم ”لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر خدا کا غلام بنانا ہے یہ بالکل غلط بات ہے اس کی دو وجوہات ہیں:
پہلی وجہ ہے کہ آزادی کی جو تعبیری توجیہ تاریخ میں مرتب ہوئی اس کا مطلب ہے ”انسانوں کو خدا کی غلامی سے رہاکر کے ان کو خود اپنے نفسانی خواہشات کا غلام بنادینا ہے اور تاریخ نے ثابت کردیا ہے کہ آزادی پر ایمان لانے والے لبرل، قوم پرست، سوشلسٹ، کبھی خدا کے بندے نہیں بنتے۔ وہ ہمیشہ اپنے نفس کے بندے بنتے ہیں اور خدا سے بغاوت کرتے ہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ انسانوں کی غلامی سے آزادی کا مطلب اس نظام ہدایت کا انہدام ہے جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔ اسلام ایک مساویانہ (egalitarian) معاشرہ قائم نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرنا چاہتا ہے جہاں اہل تقویٰ کی فوقیت اور بالادستی کو روحانی، سیاسی اور علمی سطح پر تسلیم بھی کیا جائے اور بروئے کار بھی لایا جائے۔ اپنی چودہ سو سالہ تاریخ میں اسلامی معاشرہ ایک درجہ بند (Stratified) معاشرہ رہا ہے اس حد تک کہ شرع مطہرہ واضح صراحت کے ساتھ غلامی کی اجازت نہیں دیتی ہے اور غلامی کے ادارہ کے فروغ کے ہی ذریعہ ایک صدی کے اندر اندر پورے مشرق وسطی کو مشرف بہ اسلام کیا گیا۔ آج بھی اگر اللہ تعالیٰ ہمیں فلسطین کشمیر اور افغانستان میں فتح دے تو ہم حربی کفار اور ان کے مسلم معاونین کو غلام بنائیں گے کیوں کہ یہ غیر اسلامی مزاحمت کو ختم کرنے اور اسلامی خاندانی معاشرت میں غیر اقوام کو ضم کرنے کا موثر ترین طریقہ ہے۔
درجہ بند ‫#‏معاشرتی‬ تنظیم کا دوسرا جواز اسلامی نظام ریاست ہے، یہاں سلطان ظل اللہ ہوتا ہے اور ملک کے باقی تمام اس کے رعایا ہوتے ہیں۔ عوام کی حکومت میں شمولیت کا کوئی جواز نہ امام ماوردی نے کبھی پیش کیا، نہ امام ابن خلدون نے، نہ شاہ ولی اللہ رحمہم اللہ نے۔ سلطان عوام کا نہ نمایندہ ہوتا ہے نہ عوامی نمایندگی کی ادارتی صف بندی کا کوئی تصور اسلامی سیاسی فکر میں موجود ہے۔ عوام روحانی اور اخلاقی راہنمائی مرشدین اور مزکّیوں سے حاصل کرتے ہیں اوراپنے سلطان اور اس کے عُمّال کے مطیع ہوتے ہیں۔ سلطان صرف اللہ کا مطیع ہوتا ہے۔ عوام کی رائے کی بنیاد پر کوئی فقہی یہ ریاستی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔
اسلام آزادی کو بحیثیت ایک قدر (Value) کے کلیتاً اور صریحاً رد کرتا ہے اور ہر جمعہ میں امام مسجد اعلان کرتا ہے ”وینہیٰ عن الفحشائِ والمنکروالبغی… آزادی بغی کی جدید سیاسی شکل ہے اور اسلامی انقلاب اسی بغاوت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کو برپا کیا جاتا ہے

سیکولرازم کیا ہے؟


سیکولرازم کیا ہے؟
‫#‏سیکولرازم‬ Secularism# کے تصور کا بانی ایک عیسائی مفکر سینٹ آگسٹین(Saint Augestene) ہے۔ سینٹ آگسٹین نے چوتھی صدی عیسوی میں ایک کتاب ”سٹی آف گاڈ (City of God) لاطینی زبان میں لکھی۔ اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں عملاً دو سلطنتیں ، یعنی دو نظامِ اقتدار قائم ہیں ایک نظام ہے، ”سٹی آف گاڈ” جس میں خدا کی حکمرانی ہے۔ اس نظام کو چرچ مرتب اور نافذ کرتا ہے، اور یہ نظام خدا اور انسان کے رشتہ کو قائم رکھنے اور مضبوط بنانے کا ذمہ دار ہے۔ یہ نظام عیسائیت کی تشریح اور تنفیذ کرتا ہے، اس نظام کا حاکمِ مطلق ”پوپ” ہے، پوپ عیسائیت کی جو تشریح چاہے کرے کیوں کہ روح القدس (Holy ghost) ہر پوپ میں حلول کرجاتی ہے۔ ہر عیسائی پوپ کا بندہ ہے۔
دوسرا ‫#‏نظام‬ ”سٹی آف مین” (City of man) ہے۔ اس نظام کا مقصدِ وجود… انسانوں کے آپس کے تعلقات کی ترتیب اور تدوین ہے اور ان کے دنیوی اغراض و مقاصد کا فروغ ہے۔ اس نظام کو چلانے کے لیے اقتدار رومن شاہنشاہ Roman emperor کو پوپ سونپ دیتا ہے۔ اور رومن شہنشاہ رومن قانون (Roman Law) جس کا ماخذ روم کی روایات ہیں۔ رومن شہنشاہ اسی رومن لاء کے ذریعے ”سٹی آف مین” پر حکومت کرتا ہے۔ City of man میں رومن شہنشاہ انہی معنوں میں حاکمِ مطلق ہوتا ہے جن معنوں میں پوپ City of God میں حاکم ِمطلق ہوتا ہے۔ رومن شہنشاہ کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ رومن لاء کی جو تشریح چاہے کرے۔
چوتھی صدی عیسوی میں رومن شہنشاہ Constantine نے عیسائیت قبول کرلی۔ اور سینٹ آگسٹین کا وضع کردہ سیکولرازم (Secularism) کا یہ تصوراتی نظام تقریباً ہزار سال تک یورپ میں نافذ العمل رہا۔ اس نظام کے خلاف منظم بغاوتیں چودہویں اور پندرہویں صدی میں شروع ہوئیں، یہ سبھی مذہبی بغاوتیں تھیں، اور ان کے برپا کرنے والے پروٹسٹنٹ عیسائی فرقے تھے۔ ان فرقوں نے پوپ کے City of God کے اقتدار کے خلاف بغاوت کی۔ ان بغاوتوںکو مقامی سیاسی مقتدر خاندانوںکا شمالی یورپ میں بھر پور تعاون حاصل تھا۔ جہاں جہاںیہ تحریکیں کامیاب ہوئیں وہاںمطلق العنان بادشاہت Absolute Monarchy قائم ہوئی۔ اور ایک قومی چرچ (National Church) وجود میں آیا، جس کا سربراہ قومی بادشاہ قرار پایا۔ اس دور کے آخر میں ایک کلیدی معاہدہ Treaty of west phalia کے ذریعے سیکولرنظام کی ایک نئی تشریح کی گئی۔ متصادم ریاستیں Catholic اور Protestant اس بات پر متفق ہوگئیں کہ ہر مطلق العنان بادشاہ اپنے راعی کا یہ حق تسلیم کرے گا کہ وہ جو مذہب چاہے اختیار کرے۔ گو کہ ریاست کا ریاستی مذہبی نظام وہی ہوگا جو مطلق العنان فرماں رواں اختیار کرے گا۔ اس نظریہ کو Doctrine of Toleration کہتے ہیں۔
تنویری سیکولرازم(Tanvir Secularism):
سترہویں اور اٹھارہویں صدی ‫#‏عیسائیت‬ کے خلاف اہم ترین فکری بغاوتوںکا دور ہے۔ ان بغاوتوں کو Enlightenment (تنویریت) کہتے ہیں۔ اس کے کلیدی مفکر Newton، Locle، Kant، Hegel، Deaurtes اور Marx ہیں۔ ان مفکرین کے نظریات جدا ہونے کے باوجود اس بات پر یہ متفق ہیں کہ انسان Human Being# ہے۔ Human being سے مراد ایک ایسانوعی وجود ہے جو احد و صمد ہے۔ وہ جو اپنی ذات اور اپنی کائنات خود تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ قائم باالذات ہے، اور کسی کا عبد نہیں ہے۔ اس کی انفرادی نوعی جستجو کا مقصد تسخیر< کائنات ہے، اس کو حق ہے کہ خیر او رشر کا تعین خود کرے اور اپنی تمام خواہشات کی تکمیل میں جو عمل معاون ہورہا ہو وہ خیر ہے۔
یہ تنویری عقائد ہیں، تنویری عقلیت ان عقائد کو ثابت نہیں کرتی۔ یہ اس کی مفروضات presumptions ہیں۔ ان عقائد پر ایمان لائے بغیر انسان Human being نہیںبن سکتا۔ جو انسان Human being نہیں وہ enlightenment کے نظامِ اجتماعی کا رکن نہیں بن سکتا اور اسے کوئی بھی Human Right حاصل نہیں۔ Locke نے یہ بات واضح طور پر کہی ہے کہ اسّی ملین Red Indians (امریکا کے قدیم باشندوں) کا قتل اتنا ہی جائز تھا جتنا بھینسوں(Bison) کا شکار، کیوں کہ نہ بھینسے Human being تھے نہ امریکا کے قدیم باشندے۔
Human being جو نظامِ اقتدار قائم کرتا ہے اس کو دستورِی جمہوریت (Constitutional republic) کہتے ہیں۔ اس نظام اقتدار میں (اصولاً) مطلق العنان فرمانروا سٹیزن (Citizen) ہوتا ہے۔ Citizen کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تنویری عقائد کی بنیاد پر نظامِ اجتماعی چلانے کے لیے جو قوانین اوراصول چاہے وضع کرے۔ شرط صرف یہ ہے کہ یہ اصول و قوانین فروغِ آزادی، تسخیرِ کائنات اور خود تخلیقیت (Self determination) کے حصول کا ذریعہ ہوں۔
اس نظامِ اجتماعی میں سیکولرازم کے لیے دو گنجائشیں موجود ہیں:
الف : جمہوری دستور Treaty of Westphalia کے اصول کو قبول کرنا کہ مذہب ایک انفرادی معاملہ ہے جس کا نظامِ اجتماعی کی ترتیب اور تنفیذ سے کوئی تعلق نہیں۔ ہر شخص جو مذہبی عقائد اختیار کرنا چاہے کرسکتا ہے، لیکن یہ عقائد مابعدالطبیعاتی (Metaphysical) ہوں۔ اخلاقی (Ethical) نہ ہوں۔ مثلاً یہاں ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ زنا سے اجتناب کرے اور زنا کو برا سمجھے، لیکن اس کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی بیٹی کو زنا سے اجتناب کرنے پر مجبور کرے۔کیونکہ زنا کرنا بیٹی کا Human Rights ، ہے۔ ہر شخص مذہبی روایت اپنی پسند کی بنیاد پر اس طرح قبول کرنے کا حق رکھتا ہے کہ یہ مذہبی عمل تنویری اجتماعیت (Constitutional republic) کے مقاصد کے حصول کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے، بحیثیت Citizen وہ فروغِ آزادی اور حصولِ تسخیر کے کائنات کے مقاصد کی معاشرتی اور ریاستی بالادستی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ یہی چیز اس کو Human being بناتی ہے اور اسی کی بنیاد پر اس کو Human Rights کا حق دار تصور کیا جاتا ہے۔
ب: ہر فرد اور گروہ کو اس بات کا حق بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کو تنویری مقاصد آزادی، تسخیرِ کائنات، اور خود تخلقیت کے حصول کا ذریعہ ہونے کی تبلیغ کرے اور ان مقاصد کے حصول کی جدوجہد کی ایک مذہبی تشریح پیش کرے یہ کام Newton، Kant، Locke اور Hegal نے شروع کیا اور وہ سب اپنے آپ کو پکا اور مخلص عیسائی تصور کرتے تھے۔
آج دو تحریکیں یہ عمل کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک Evangelism اور دوسری Zionism ان گروہوں کا دعویٰ ہے کہ مذہب کی جو تشریح وہ پیش کرتے ہیں وہ تنویری اقدار کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ Evanglists کہتے ہیں کہ امریکی دستور جس کی بنیاد پر دنیا کی کامیاب ترین ریاست قائم ہے عیسائی تعلیمات سے محفوظ ہے۔
برصغیر میں سیکولرازم:
برصغیر کی کامیاب ترین ‫#‏مذہبی‬ سیکولر ‫#‏تحریک‬ سِنگھ پریوار اور بی جے پی ہے۔ جس نے ہندو مذہب کی خالص سیکولر تشریح پیش کی ہے اور اس کی بنا پر بڑے پیمانے پر عوامی پذیرائی حاصل کی ہے اور کانگریس نے بھی عملاً ان تشریحات کو قبول کیا ہے۔ برصغیر میں جو سیکولر ازم فروغ پایا ہے وہ مذہب کو سراہنے والی سیکولرازم ہے۔ یہ سیکولرازم ہندوستان کے تمام مذاہب کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کو ہندوستان کے لوک ورثہ کا اہم جزو سمجھتی ہے۔ یورپی سیکولرازم کی طرح ہندوستانی سیکولرازم بھی مذہب کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ رائج شدہ سرمایہ دارانہ جمہوری نظامِ اقتدار کا جائز ہونے یا نہ ہونے کا سوال اٹھائے یا اس کی Legitimacy کو چیلنج کرے۔ مذہبی ترجیحات، رسومات اور تشخص لازماً دستوری ریاستی نظامِ اقتدار کی فیصل حاکمیت (Sovereignty) کو تسلیم کرتی ہیں اور اسی وجہ سے ان کو سیکولر ریاستی نظامِ کا تحفظ حاصل ہے۔ جمعیتِ علماء ہند اور جماعتِ اسلامی ہند ان معنوں میں سیکولر جماعتیں ہیں کہ انہوں نے دستوری نظامِ اقتدار کی بالادستی اُصولاً اور عملاً قبول کرلی ہے اور ان کی دعوتی اور علمی جدوجہد بھی اس سیکولر نظامِ اقتدار سے متصادم نہیں۔ یہ دونوں جماعتیں کانگریس کی سیکولرازم کو بی جے پی کی سیکولرازم پر ترجیح دیتی ہیں، اور ان کا دعویٰ ہے کہ ہندوستانی انفرادیت اور معاشرت کو صرف ہندومت سے منسلک کرنا درست نہیں اور اگر تمام مذاہب کی تکریم (Respect) برقرار رکھنا ہے تو ہر مذہبی تشخص کو سیکولر نظام میں سموجانے اور یکساں فروغ دینے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ چوں کہ کانگریس اس دلیل کواصولاً نہرو کی تحریرات بالخصوص (Discovery of India) کی بنیاد پر قبول کرتی ہے لہٰذا عملاً جمعیتِ علماء ہند، جماعتِ اسلامی ہند اور یو پی کی مسلم مجلس عملاً کانگریس کی حلیف سیاستی جماعتیں بن گئیں ہیں اور یہ تینوں جماعتیں ہندوستانی سیکولرازم کے استحکام کو اسلام کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھتی ہیں۔
پاکستانی سیکولرازم اور ‫#‏اسلامی‬ جدوجہد:
حاجی صاحب ترنگ زئی کی شہادت اور تحریکِ ریشمی رومال کی ناکامی کے بعد علماء ہند نے اپنی سیاسی جدوجہد کو سیکولر خطوط پر مرتب کیا۔ ١٩١٨ء / ١٩١٩ء میں تحریکِ خلافت وجود میں آئی اور ١٩٢٠ء میں جمعیتِ علماء ہند قائم کی گئی۔ یہ دونوں تنظیمیں تحریکِ استخلاصِ وطن کا حصہ تھیں۔ جس کی عملی قیادت گاندھی کررہا تھا، گاندھی کا طریقۂ کار عدمِ تشدّد (ستیہ گِرہ) (Non Violent Boycott) پر مبنی تھا۔ عدمِ تشدد پر مبنی تحریک ایک قانونی، احتجاجی اور مفاہمتی مطالباتی تحریک تھی جس کا مقصد برصغیر کے باشندوں کے لیے سرمایہ دارانہ جمہوری دستوری حقوق کا حصول تھا۔ کانگریس اور مسلم لیگ دونوں سیکولر قوم پرست جماعتیں تھیں، علماء دیو بند اور علماء بریلی نے ان جماعتوں کی ماتحتی قبول کرلی اور ہندوستان میں احیاء ریاستِ اسلامی کو ناممکن سمجھ لیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد ‫#‏لبرل‬ سیکولر دستوریت کی اسلام کاری کا عمل بروئے کار لایا گیا۔ (Basic Principles Resolution) منظوری کے بعد پاکستان کے دستور کو اسلامی گردانا گیا اور اسلامی جماعتوں کی جدوجہد اسی دستور کے تناظر میں مرتب کی گئی چوں کہ یہ دستور خالصتاً سیکولر اور لبرل ہے، شریعت کی بالادستی کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی علومِ اسلامیہ کی بالادستی قبول کرتا ہے لہٰذا اس کے تناظر میں جدوجہد کرنے والی اسلامی جماعتوں کی جدوجہد پیہم ناکامی کا شکار ہے۔ یہ تحریکیں مطالبات اور احتجاج سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکیں، سیکو لرنظام میں اسلامی جماعتوں کے سموجانے کا سب سے واضح ثبوت MMA کا دو ہزار دو سے دو ہزار سات تک دورِ حکومت فراہم کرتا ہے۔ MMA اپنے دورِ اقتدار میں اسلامی علامتی اقدام تک میں ناکام رہی۔ حسبہ بل کو افتخار محمد چودھری (جس کو آج جماعتِ اسلامی قوم کا نجات دہندہ تصور کرتی ہے) بیک جنبشِ قلم مسترد کردیا تھا۔ فوج کے مجاہدینِ اسلام کے خلاف مظالم جاری رہے، حکومتی سودی کاروبار اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ ایم ایم اے میں شامل جماعتیں دستورِ پاکستان کو احکاماتِ شریعتِ مطہرہ پر بالادست تسلیم کرتی ہیں اور صرف وہی جدوجہد (مطالباتی، احتجاجی، Non Violent، ستیہ گری) کرنے کی قائل ہیں جس کی اجازت پاکستان کا دستور ان کو دیتا ہے؛
اور تم سوائے شور کے کچھ بھی نہ کرسکو
کیا خوب لڑ رہے ہو کہ مارو نہ مرسکو
سیکولر دستوری نظام میں ماتحتی قبول کرکے اسلامی جماعتیں جمعیتِ علماء اسلام، جمعیت علمائے پاکستان اور جماعتِ اسلامی اپنی اسلامی سیاسی شناخت کھوتی جارہی ہیں۔ جمعیتِ علماء اسلام پیپلزپارٹی کی حلیف تھی، اب جماعتِ اسلامی عمران خان کی ساتھی بننے کی متمنی ہے۔ کیا یہی اسلامی سیاست ہے؟
سیکولرازم (Secularism) کو قبول کرنے کا طریقہ صرف سیاستی نہیں معاشرتی بھی ہے، اس معاشرتی طریقہ کو اختیارکرنے والے غلبۂ اسلام کی ضرورت کا انکار کرتے ہیں۔ وہ اقتدارِ اسلامی کے قیام کی جدوجہد سے عملاً لاتعلق رہتے ہیں۔ یہ رویہ صوفیائے چشتیہ اور قادریہ نے تیرہویں صدی سے اپنایا ہوا ہے۔ جب تک برصغیر میں اسلامی سلطنت قائم رہی اس رویہ کے جواز میں یہ کہا جاسکتا تھا کہ چوں کہ سلطان ظل اللہ ہے لہٰذا صوفیاء یکسو ہوکر ہندوستان کے باشندوں کو مسلمان بنانے کا کام کریں اور معاملات اقتدارِ سلطان ظل اللہ کے سپرد کردیں۔ سلسلہ نقشبندیہ نے اکبر اور جہانگیر کو عسکری شکست دے کر ریاستِ اسلامی کو محفوظ رکھا (اور اس ضمن میں حضرت مجدد الف ثانی، شاہ عبدالحق محدث دہلوی اور شاہ ولی اللہ کی جدوجہد نہایت اہم ہے) لیکن جب امام عالمگیر رحمة اللہ علیہ اور داراشکوہ کے درمیان معرکہ برپا ہوا تو یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بیشتر اہلِ تصوف دارا کے حامی بنے بالخصوص پنجاب میں۔ اور امام عالمگیر اپنے نصف صدی کے دورِ اقتدار میں بہت کم صوفیا کو مغل انتظامیہ کا پیہم جستجو کے باوجود حصہ بنانے میں کامیاب ہوسکے۔
اس سے واضح ہوا کہ سلطنت سے لاتعلقی کے نتیجہ میں اہلِ تصوف کا سیاسی شعور ختم ہوتا چلا گیا۔ سترہویں صدی میں صوفیاء کرام نے عالمگیر جیسے ولی اللہ سے پہلو تہی کی اور بیسویں صدی میں درویشِ خدا مست سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو بالکل تنہا چھوڑ دیا۔ پنجاب اور سندھ کے بیشتر پیرو ںکے خانوادے انگریز کے باج گزار بنے۔ آج ڈاکٹر غلام مصطفی خان اور محمد موسیٰ بھٹو جیسے صوفی اسلامی جماعتوں کو سیاست سے پہلو تہی کا درس دیتے ہیں اور امریکی استعمار کے ہم نوا یوسف قرضاوی اور وحید الدین خان کے ہم نوا ہیں۔ اس نوعیت کا تصوف روحانی عیاشی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
نظامِ اقتدار کے قیام کی جدوجہد سے پہلو تہی اسلامی عوامی جماعتوں مثلاً دعوتِ اسلامی اور تبلیغی جماعت نے بھی اختیار کی ہے۔ یہ جماعتیں سیاسی عمل کو گندا کہتی ہیں اور عملاً یہ جماعتیںسیکولر نظام کا حصہ بن گئی ہیں اور سیکولر اقتدار کو کوئی چیلنج پیش نہیں کرتیں۔ یہ اس رائے کا اظہار کرتی ہیںکہ انفرادی اصلاح کے نتیجہ میں نظام اقتدار خود بخود تبدیل ہوجائے گا، ظاہر ہے یہ رائے صرف وہی شخص رکھ سکتا ہے جو انقلابات عالم کی تاریخ سے ناواقف ہے۔
اختتامیہ:
سیکولرازم سے مراد یہ ہے کہ نظام اقتدار اس طرح مرتب ہو کہ Human being کی مطلق حاکمیت (Absolute Sovereignty) کارِ فرما رہے۔ اور اس کے نتیجہ میں مکمل آزادی اور تسخیر کائنات کو ممکن بنایا جاسکے۔ سیکولرازم (Secularism)کے ذریعے ہیومن بینگ کی الوہیت اور صمدیت قائم کی جاتی ہے۔
ہم سیکولرنظام کو کلیتاً، اصولا اور عملاً رد کرتے ہیں۔ سیکولرازم (Secularism) میں کسی مذہبی پیوند کاری کے قائل نہیں۔ ہماری جدوجہد سیکولر نظام اقتدار کو جڑ بنیاد سے اُکھاڑ پھینکنا ہے۔ سیکولر نظام اقتدار کو ہم جائز (Legitimate)
نہیں سمجھتے اور اس کی قانونی اور دستوری جکڑبندیوں سے اپنی جدوجہد کو آزاد کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اسلامی نظام اقتدار کے قیام کے لیے وہ تمام طریقہ اختیار کرنے کا حق رکھتے ہیں جن کا شریعت مطہرہ ہمیں اجازت دیتی ہے۔ اسلامی حکومت کا قیام اسلامی نظام اقتدار کے قیام کے جدوجہد کا آخری مرحلہ ہے یہ بات دورِ حاضر میں غزا، صومالیہ، یمن، افغانستان اور چیچنیا میں جاری اسلامی تحریکوں نے ثابت کردی ہے

سوشلزم‬ کیا ہے؟


‫#‏سوشلزم‬ کیا ہے؟
سوشلزم کی تاریخ:
سوشلزم( Socialism# )، ‫#‏لبرل‬ ازم اور قوم پرستی کی طرح سرمایہ دارانہ نظام زندگی کو جواز فراہم کرنے والا ایک نظریہ ہے۔ سوشلزم بذاتِ خود کوئی نظام زندگی نہیں، سوشلزم کے چند بنیادی تصورات کی جڑیں قدیم یونانی اور ایرانی مفکرین کے یہاں ملتی ہیں۔ اور اسی وجہ سے علامہ اقبال نے سوشلزم کو ”مزدکیت” کہا ہے۔
مزدک نے زرتشت کی تعلیمات کے خلاف بغاوت کی اور انفرادی ذاتی ملکیت کو حرام قرار دیا۔ افلاطون کا تصور ریاست بھی اسی خصوصیت پر مبنی تھا جو اشتراکی تصور ریاست سے مماثل ہے۔ لیکن جس نظریہ کو اشتراکیت (socialism) کہتے ہیں۔ اس کی ابتداء انیسویں صدی میں ہوئی۔ اس نظریہ کی دو تعبیریں پیش کی گئیں Owen Foureir, Morris, Prodhounنے Socialist idialism اور Marx اور Engles نے Seientific Socialism کی تعبیر پیش کی۔ ان دونوں نظریات میں مشترکہ عقیدہ ذاتی ملکیت کی نفی تھی اور دونوں نظریات سرمایہ دارانہ ظلم اور استحصال کے خاتمے کے لیے ذاتی ملکیت کے خاتمہ کو ضروری سمجھتے تھے۔socialist idealists کا خیال تھا کہ ذاتی ملکیت ختم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر تبلیغ کی ضرورت ہے۔ اور اس کے نتیجے میں لوگ خود بخود ذاتی ملکیت ترک کردیں گے اور اجتماعی ملکیت کے اصولوں پر کاروباری زندگی کو مرتب کریں گے۔ اس کی عملی مثال Robert Owenنے اپنے کارخانہ میں پیش کی۔
Seientific Socialism کا نظریہ تھا کے ذاتی ملکیت کا خاتمہ انسانی تاریخی عمل سے لازماً برآمد ہوگا Socialistمادہ پرست (Materialist) ہوتے ہیں۔ اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مارکس کے تصورات نے ارتقا نے تاریخ انسانیت کا سائنسی تجزیہ اسی حیثیت سے کیا ہے جس حیثیت سے Darwin نظریہ ارتقاء ثابت کیا ہے۔ مارکس اپنے آپ کو بنیادی طور پر ایک سائنس دان سمجھتا تھا اور اس نے اپنی سب سے اہم تصنیف ”داس کیپیٹل” کو بھی Darwinکے نام ہی منسوب کیا ہے۔
Sceentific socialist شخصی ملکیت کے خاتمے کو انسانی تاریخی عمل کا ایک لازمی نتیجہ سمجھتے ہیں لیکن یہ عمل خود بخود آگے نہیں بڑھتا۔ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے انسانیت کا ایک نمایندہ (Representative) طبقہ جدوجہد کرتا ہے۔ اس طبقہ کو Prolitaret کہتے ہیں۔ اور جب یہ طبقہ اپنی آمریت ( Ddictator shipْ) قائم کرلیتا ہے تو ذاتی ملکیت ختم ہوجاتی ہے۔
Socialist idealists سوشلسٹ نظریات پچھلے تین صدیوں سے موجود ہیں۔ دنیا کی تمام سوشل ڈیموکریٹک پارٹیوں نے Socialist idealistنظریات اپنائے ہیں۔ ان پارٹیوں میں انڈین کانگریس، پاکستان پیپلزپارٹی، برطانوی لیبر پارٹی، فرانسیسی سوشلسٹ پارٹی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سب اصولاً انفرادی ملکیت کی ریاستی تحدید کی قائل ہیں۔ لیکن اس عمل کو عوامی مقبولیت سے مشروط کرتی ہیں۔ سوشلسٹ ڈیموکریٹک نظریات تیزی سے فروغ پارہے ہیں اور ان لبرل نظریات میں ادغام کا عمل اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارہ مثلاً آئی ایم ایف، ڈبلیو ٹی او، وغیرہ کے ذریعہ فروغ پارہا ہے۔
سوشل ڈیموکریٹک فکر نے اسلامی جماعتوں کو بھی بہت بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان جماعتوں کے زعماء مثلاً راشد غنوشی، احمد غزالی، جلال الدین احمد، خرم جاہ مراد، پروفیسر خورشید احمد ایک مدت سے سوشل ڈیموکریٹک مباحث کی اسلام کاری میں مصروف ہیں۔٢٠١٢ء کے مصری انتخابات میں اخوان المسلمون کا منشور اور٢٠٠٢ء کے انتخاب میں ایم ایم اے کا منشور بے شمار سوشل ڈیموکریٹک مطالبات کا مجموعہ تھا۔
Scientific socialist نظریات کو قبو ل کرنے والی کیمونزم جماعتیں ہیں۔ ان جماعتوں نے روس، چین، کیوبا اور کئی دیگرممالک میںسوشلسٹ انقلابات برپا کیے ہیں۔ اورProlitariatکی Dictator ship قائم کرکے ذاتی ملکیت ختم کردی۔ لیکن ١٩٨٩ء کے بعد سے ان جماعتوں کو شکستوں کا سامنا کرنا پڑا اور پورے مشرقی یورپ چین اور کیوبا میں نجی ملکیت کا احیاء ہوا۔ چین اور کیوبا کے علاوہ ہر جگہ لبرل نظریات اور لبرل نظام ریاست غالب آگیا اور آج scientific sociatism کے دعوے دار اپنے بہت سے نظریات سے انحراف کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
٢… سوشلسٹ انفرادیت:
سوشلزم ایک سرمایہ دارانہ ‫#‏نظریہ‬ ہے لہٰذا ‫#‏سوشلسٹ‬، لبرل اور قوم پرست نظریات میں بنیادی اعتقادی ہم آہنگی ہے۔ سوشلسٹ نظریات کے حامل افراد لبرلوں اور قوم پرستوں کی طرح”لاالہ الا ا نسان” کے کلمۂ خبیثہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ سوشلسٹوں، لبرلوں اور قوم پرستوں کا مقصدِ زندگی آزادی کے فروغ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہ تینوں نظریات انسان کو صمد اور قائم باالذات بنانا چاہتے ہیں اور ہر فرد کو اس با ت پر راضی اور مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ وہ دنیا میں زیادہ سے زیادہ لذت حاصل کرنے کو اپنے مقصد اولیٰ کے طورپر قبول کرلے اور تصرف فی الارض کی جدوجہد میں اپنی تمام توانائی کو کھپادے۔ سوشلزم، لبرلزم اور قوم پرستی انہی معنوں میں کفر ہیں کہ یہ تینوں نظریات الوہیتِ انسان کا عقیدہ رکھتے ہیںاور آخرت سے انکار کرکے دنیا میں حصولِ لذات کو انفرادی اور معاشرتی عمل کا محور اور مرکز بنادیتے ہیں۔تینوں نظریات بڑھوتری سرمایہ برائے بڑھوتری، سرمایہ کو آزادی اور الوہیتِ انسان کے اظہار کا واحد قابلِ عمل ذریعہ تصور کرتے ہیں۔
لبرل، قوم پرست اور سوشلسٹ تصور انفرادیت میں فرق بھی ہے۔ لبرل نظریہ کے مطابق ہر فرد اپنی ذات میں خدا ہے اور تمام اجتماعیتوں کے قیام کا جواز فرد کی الوہیت اور آزادی کا فروغ ہے۔ ہر فرد ایسے بنیادی حقوق رکھتا ہے کہ جن کو کسی اجتماعی مفاد کی بنیاد پر پامال نہیں کیا جاسکتا۔ انسان کا سب سے بنیادی حق ذاتی ملکیت کا حق ہے۔ وہ اپنے مادی وسائل کو جس طرح چاہے خرچ کرے بشرط کہ اس استعمال سے کسی فرد کا یہی مساوی حق پامال نہ ہوتا ہو۔ لبرل مفکرین کے نزدیک معاشرہ اور ریاست کے وجود کا جواز یہی ہے کہ شخصی ملکیت کے حق کو فروغ دے۔
قوم پرست اور سوشلسٹ انفرادی ‫#‏الوہیت‬ کے قائل نہیں۔ بلکہ وہ اجتماعی الوہیتِ انسانی کے قائل ہیں۔ قوم پرستوں کے مطابق الوہیتِ انسانی کا مظہر ”قوم” ہے انفرادی شخصیت نہیں۔ ہر مہاجر کو مہاجر قوم کی الوہیت کے فروغ کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے پر ہر وقت راضی رہنا چاہیے، بنیادی حقوق قوم کے ہوتے ہیں۔ اور قوم کی الوہیت کے حق کے سامنے اس کے تمام افراد کو اپنے انفرادی بنیادی حقوق سے دستبردار ہونا چاہیے۔
سوشلسٹ الوہیتِ انسانی کا مظہر نہ فرد کو مانتے ہیں نہ قوم کو بلکہ سوشلسٹ نظریہ کے مطابق الوہیتِ انسانی کا مکلف ایک طبقہ ہے یہ طبقہProlitariatہے۔ یہ طبقہ سوشلسٹ کہتے ہیں کہ انسانیت کا نمایندہ (Representative) طبقہ ہے اور الوہیتِ انسانی کا بنیادی حق اسی طبقہ کو حاصل ہے۔ جبProlitariatطبقہ اپنی ڈکٹیٹر شپ قائم کرتا ہے تو وہ ذاتی ملکیت کو ختم کرکے تمام انسانوں کے مساوی حقوق کا اثبات کرتا ہے۔ اور بنی نوع انسان کا ہر فرد وسائل کائنات سے یکساں مستفید ہونے کا مکلف ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ وہ پرولتاری ڈکٹیٹر شپ قائم کرنے کی جدوجہد میں شریک ہو اور اس کے قیام کے بعد پرولتاری قیادت کے احکام کو تسلیم کرے۔اسی تابع داری میں الوہیتِ انسان کا صحیح اظہار ممکن ہے۔
٣… سوشلسٹ ‫#‏معاشرہ‬:
انقلاب روس کے اولین دور میں لینن اور اسٹالن نے سوشلسٹ انفرادیت کا تصور پیش کیا اس نظریہ جو کہ مارکس کے تصور Specie beingسے ماخوذ تھا کہ مطابق جیسے جیسے سوشلسٹ نظام مستحکم ہوگا ویسے ویسے روس کا ایک عام باشندہ ”Soveit man” بن جائے گا۔ Maoze dong کا١٩٦٦ء تا ١٩٧٤ء تک کا ثقافتی انقلاب بھی سوشلسٹ انسانی شخصیت کی تعمیر کی ایک کوشش تھی۔Soveit man ایک ایسی انفرادیت تصور کی گئی جو طبقہ Proletariatکے مفادات کو ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات پر ترجیح دیتی اورProlitariat کی آزادی اور الوہیت کو فروغ دینے کو ہمہ وقت تیار رہتی ہو۔
عملاً اس قسم کی شخصیت کا ‫#‏سوویت‬ ‫#‏روس‬، ‫#‏چین‬ کے علاوہ کسی اور سوشلسٹ ملک میں وجود دیرپا ثابت نہیںہوا۔ انقلاب کے ابتدائی دور میں بہت بڑی تعداد میں ‫#‏کیمونسٹ‬پارٹی کے اراکین نے اشتراکی اقتدار اور غلبہ کو قائم رکھنے کے لیے عدیم المثال قربانیاں پیش کیں۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا قربانی کا یہ جذبہ سرد پڑتا گیا اور سوشلسٹ معاشرہ خود غرضی، لالچ اور حسد سے بھر کر رہ گیا۔ کیمونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین افراد بدترین کرپشن اور بے راہ روی کا شکار ہوگئے اس کی واضح ترین مثالیں لینن، اسٹالن اور ماؤ نے فراہم کیں۔ جو نہایت ظالم، خود غرض، سفاک اور بددیانت حکمران ثابت ہوئے۔
سوشلسٹ اور لبرل معاشروں کی اخلاقی پستی یکساں ہیں۔ دونوں معاشروں میں ‫#‏حرص‬ اور حسد کا راج ہوتا ہے اور لوگ ایک دوسرے کی مجبوریوں اور کمزوریوں سے فائدہ اٹھاکر اپنا مطلب نکالتے ہیں۔ سوشلزم کایہ دعوی کہ ذاتی ملکیت کو ختم کرکے سرمایہ دارانہ ظلم کو ختم کیا جاسکتا ہے یہ قطعاً غلط ثابت ہوا۔ لینن اور اسٹالن اور ماؤ نے بڑے پیمانے پر نجی کاروبار کو ختم کرکے معاشی عمل کی بنیاد ریاستی منصوبہ بندی پر رکھی۔ لیکن اس سے سرمایہ دارانہ ناانصافیوں میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔ ایک منصوبے کے تحت معیشت (Planned economy) میں اقتدار نجی سرمایہ داروں کے ہاتھوں سے نکل کر ریاستی نوکر شاہی کے ہاتھ میں منتقل ہوگیا۔ اور ریاستی نوکر شاہی بھی اپنے اقتدار کو استعمال کرکے معیشت کو لُوٹنے میں مصروف ہوگئی۔ لبرل اور سوشلسٹ معاشرہ میں عام آدمی بھی استحصال پسند، خود غرض، لالچی اور عیاش ہوتا ہے، دونوں معاشروں میں قدر مشترک جنسی بے راہ روی اور ہوس پرستی ہے ، اخلاقی اور روحانی پستی کے لحاظ سے ایک عام سوشلسٹ شہری ایک لبرل شہری سے ذرہ برابر مختلف نہیں ہوتا۔
سوشلسٹ ممالک کے عوام نے ریاستی منصوبہ بندی کو معاشی استحصال کا ذریعہ گردانا اور ١٩٨٩ء کے بعد یکے بعد دیگرے سوشلسٹ معیشتیں لبرل بن گئیں، ریاستی منصوبہ بندی کوتدریجاً ترک کردیا گیا اور ہر جگہ اجارہ دارانہ مارکیٹ (Mnopolistc markiets) کا غلبہ ہوگیا۔ یہ عمل روس اور مشرقی یورپ میں مکمل ہوچکا ہے۔ اور آج نہایت زور وشور سے چین، کیوبا، وینز ویلا اور بولیویا میں جاری ہے۔ سوشلسٹ ممالک جو آسانی سے لبرل بن گئے ہیں اور بنتے جارہے ہیں یہ اس بات کی فیصلہ کن دلیل ہے کہ سوشلسٹ اور لبرل اخلاقیات میں کوئی بنیادی فرق موجود نہیں۔ سوشلسٹ اور لبرل معاشروں کی روحانی اور اخلاقی کیفیت یکساں ہوتی ہے۔ لہٰذا ادارتی صف بندی میں عمومی تبدیلی کے ذریعے سوشلسٹ معاشرے کو لبرل اور لبرل معاشرہ کو سوشلسٹ بنایا جاسکتا ہے۔
٤… سوشلسٹ ریاست:
سوشلسٹ ریاست یا تو سوشل ڈیموکریٹک ہوتی ہے یا Proletarian Dictatorship۔ سوشل ڈیموکریسی میں مزدور تنظیمیں حکومت میں سرمایہ داروں کی حلیف اور ساتھی ہوتی ہیں۔ سیاسی عمل میں مزدور تنظیموں کی شمولیت کا مقصد یہ ہو تا ہے کہ سرمایہ دارانہ عمل کے فروغ میں وہ رکاوٹ نہ ڈالیں اور اقتدار میں شرکت سے اس بات کو یقینی بنائیں کہ مزدور بھی سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل سے مستفید ہوں۔ سوشل ڈیموکریٹک ریاست میں اس بات کی دانستہ کوشش کی جاتی ہے کہ مزدور سرمایہ دار بن جائے۔ وہ حرص اور حسد کو قدر کے طور پر قبول کرلے اور انفرادی فیصلہ سرمایہ دارانہ عقلیت کی بنیاد پر کرے۔ مزدور سرمایہ کی بڑھوتری برائے بڑھوتری کے عمل کو عقل کا تقاضا سمجھے اور اپنا مفاد اس بات میں جانے کہ سرمایہ کی بڑھوتری تیز سے تیز تر ہوتی چلی جائے۔ کیوں کہ جتنا یہ عمل تیز ہوگا اتنا ہی خواہشات نفسانی کے حصول کے ذرائع پیدا ہوں گے۔ اور مزدور زیادہ سے زیادہ تصرف فی الارض کے مکلف ہوں گے۔
پرولتاری ڈکٹیٹر شپ میں عوامی جمہوریت قائم ہوتی ہے۔ حکمران جماعت پرولتاری طبقہ کی نمایندگی کا دعویٰ کرتی ہے اور پرولتاری طبقہ انسانیت کی نمایندگی کا دعویٰ کرتا ہے اس ریاست میں بھی فیصلے عوام کی خواہشات کی تکمیل کے لیے کیے جاتے ہیں اور چوں کہ خواہشات کی تکمیل کا واحد ذریعہ بڑھوتری سرمایہ ہی ہے لہٰذا ریاستی عمل اور پالیسی کا جواز بڑھوتری سرمایہ ہی قرار پاتی ہے۔ لبرل اور سوشلسٹ ریاستی ڈھانچوں کی یہی مماثلت اس بات کی ضمانت فراہم کرتی ہے کہ لبرل اور سوشلسٹ ریاستوں میںکبھی جنگ نہیں ہوتی۔ آج دنیا میں چین امریکا کا سب سے بڑا حلیف ہے۔ اس نے کبھی بھی امریکی بربریت کا براہ راست مقابلہ نہیں کیا۔ نہ افغانستان میں، نہ عراق میں، نہ لاطینی امریکا میں، نہ مشرق بعید میں۔ اس کے برعکس چین نے کھربوں ڈالر امریکا میں رکھے ہوئے ہیں جو امریکی معیشت کا بہت بڑا سہارا ہیں۔
٥… اسلامی سوشلزم:
سوشلزم، لبرل ازم اور قوم پرستی کفریہ نظریات ہیں۔ یہ ‫#‏اسلام‬ کا ردّ ہیں کیوں کہ ان تینوں نظریات کا مشترکہ کلمہ لا الہ الا انسان ہے۔ لیکن ان تینوں نظریات نے مسلم مفکرین اور اسلامی جماعتوں کو متاثر کیا ہے۔ برصغیر میں سوشلزم کا اثر اسلامی فکر پر پہلی جنگِ عظیم کے دوران شروع ہوا۔ جب تحریک ریشمی رومال کی پسپائی کے بعد چند علماء اور مجاہدین ہجرت کر گئے۔ اور ان میں سب سے اہم قائد مولانا عبیداللہ سندھی ترکی کے راستے روس پہنچے، ہندوستان واپس آکر آپ نے بہت سے سوشلسٹ نظریات کی اسلام کاری کی کوشش کی۔ ‫#‏سندھ‬ کے دیو بندی علماء فکری طور پر اب بھی اس فکر سے کچھ نہ کچھ نہ متاثر ہیں۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کے ”اسلامی سوشلزم” سے بھی متاثر ہیں۔ ہمارے نزدیک سوشل ڈیموکریٹک ایجنڈا کی اسلامی جماعتوں کے منشور میں شمولیت بھٹو اور اس کے پیروکاروں سے مرعوبیت ہی ہے۔
ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ لبرل ازم اور قوم پرستی کی طرح سوشلزم بھی ‫#‏جاہلیت‬خالصہ اور کفرِ لعین ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ،سوشلسٹ اسلام کے بدترین دشمن ہیں کیوں کہ وہ خدا کے دشمن ہیں۔ ہم سوشلسٹ نظریات کو اُکھاڑ پھینکنے کا عزم رکھتے ہیں

لبرل ازم کیا ہے؟

لبرل ازم کیا ہے؟
تاریخ:
‫#‏لبرل‬ ازم (Liberalism#)سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کو وہ نظریاتی جواز فراہم کرتا ہے جو تاریخی طور پر سب سے زیادہ کامیاب ثابت ہوا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی یورپ میں چودہویں صدی عیسوی سے رائج ہونا شروع ہوا اور اس نظامِ زندگی کی توجیہہ ان عیسائی مفکرین نے کی جو پوپ اور کیتھولک ازم (Catholicism#) کے باغی تھے۔ لیکن یہ توجیہات سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کے فروغ اور استحکام کے لیے زیادہ کارآمد نہ ہوسکیں۔ سولہویں اور سترہویں صدی میں جو غیر کیتھولک ریاستیں یورپ میں قائم ہوئیں وہ مذہبی ریاستیں تھیں۔ اور انہوں نے سرمایہ دارانہ معاشرت کے فروغ کی راہ میں مختلف پابندیاں عائد کیں۔ ان مذہبی ریاستوں کے خلاف سرمایہ دارانہ حلقوں نے جو بغاوت برپا کی وہ لبرل ازم ہے۔ لبرل ازم کا بانی مفکر جان لاک (John Locke) ہے۔ میری رائے میں لبرل ازم کی پانچ صدیوں کی تاریخ میں اس سے زیادہ مؤثر مفکر پیدا نہیں ہوا۔ یہ اتنا صاحبِ اثر مفکر ہے کہ اس نے دورِ حاضر کی اسلامی فکر کو بھی بہت متاثر کیا ہے اور بیسویں صدی کے سب سے اہم اسلامی سیاسی مفکر مولانا مودودی جان لاک کے کلیدی تصورات کی اسلام کاری اپنی کتابوں مثلاً ”تحریکِ اسلامی کی اخلاقی بنیادیں” اور ”خلافت و ملوکیت” میں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جان لاک اس عیسائی ریاست کا باغی تھا جس کو Oliver Cromwell نے سترہویں صدی کے وسط میں برطانیہ میں قائم کیا تھا جو لگ بھگ تیس سال تک قائم رہی۔ لاک کی اہم ترین بنیادی کتاب کا نام ” The Second Tretise on Government ” ہے اور اس کتاب میں لبرل تصورِ انفرادیت، معاشرت اور ریاست کے جو تصورات پیش کیے گئے ہیں لبرل مفکرین پچھلے پانچ سو سالوں میں ان کی تشریح اور تفصیل ہی بیان کررہے ہیں۔ ان تصورات کی فلسفیانہ توجیہہ اگلی صدی میں فرانس میں Rousseau اور جرمنی میں Emanuel Kant نے کی اور اٹھارہویں صدی میں اس فکر کی بنیاد پر امریکا اور فرانس میں کامیاب سیاسی انقلاب برپا کیے گئے۔ اٹھارہویں صدی کے یورپ میں لبرل ازم کی مربوط اور منظم فکری مزاحمت نظر نہیں آتی اور عیسائی سیاسی تصورات لبرل مباحث میں ضم ہوتے نظر آتے ہیں۔ انیسویں صدی میں Marx اور Nietzschلبرل ازم کے اہم فکری مخالفین کے طور پر ابھرے اور انہوں نے اشتراکیت اور قوم پرستی کو سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کے فروغ کے لیے زیادہ ساز گار نظریات کے طور پر پیش کیا۔ اور اشراکیت اور قوم پرستی کامیاب عوامی تحاریک برپا کرنے میں کامیاب ہوئیں اور جرمنی، جاپان، روس اور چین میں اشراکیت اور قوم پرست ریاستیں قائم ہوگئیں لیکن سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کے فروغ اور استحکام کے لیے یہ اتنی مفید ثابت نہ ہوسکیںجتنی لبرل ریاستیں اور عیسائی فکر کی طرح قوم پرستانہ اور اشتراکی فکر بھی بتدریج لبرل مباحث میں ضم ہوتی چلی گئیں۔ بیسویں صدی سے لبرل ازم کو دو دیگر سرمایہ دارانہ نظریات Post Colonialism اور Post Modernism کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ فکری سطح پر
Post Colonialism کے چیلنج کو امریکی مفکر جان رالز (John Rawls) اور Thomas Nagel نے لغو (Incoherent) ثابت کیا اور Post Modernism کا حتمی نقد جرمن مفکرین ہیبر ماس( Habermas ) اور Gadamor نے مرتب کیا۔ Post Modernism اور Post Colonialism ان معنوں میں ناکام تحریکیں ہیں کہ وہ سرمایہ کی مسلسل بڑھوتری کے لیے لبرل ازم سے بہتر معاشرتی اور ریاستی ادارتی صف بندی کے تصورات پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ لیکن ان معنوں میں یہ تحریکیں کامیاب ہیں کہ انہوں نے سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کے ایسے تضادات کی نشاندہی کی ہے جن کو رفع کرنے کی استطاعت لبرل نظریات نہیں رکھتے۔
لبرل نظامِ فکر ان معنوں میں یقینا ایک بحران کا سامنا کررہا ہے کہ اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ لبرل اہداف یعنی ”آزادی” اور ”ترقی” ناقابلِ حصول اہداف ہیں۔ لیکن یہ بات صرف منطقی اور فکری سطح پرواضح ہوئی ہے اور کوئی بھی لبرل مفکر آج یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ لامحدود ترقی اور آزادی قابلِ حصول اہداف ہیں (یہ بات سب سے واضح طور پر ان مباحث میں پائی جاتی ہے جن کی ابتدا Martin Heidegger نے کی اور جو آج Complexity theory کہلاتی ہے) اور یہ سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کی شکست و ریخت کا ایک مظہر ہے کیوں کہ آزادی اور ترقی صرف لبرل ازم کے اہداف نہیں وہ قوم پرستی اور اشتراکیت کے بھی اہداف ہیں۔ لبرل ازم، اشتراکیت اور قوم پرستی کی لغویت کا اظہار سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کی بتدریج شکست و ریخت کا ایک مظہر ہے لیکن جیسا کہ Alain Badiou اور Slavoj Zizek واضح کرتے ہیں، ابھی یہ بات بالکل عیاں نہیں کہ سرمایہ دارانہ نظمِ حیات کا متبادل کیا ہے۔ Zizek کہتا ہے کہ ہم جس دور میں رہ رہے ہیں وہ ایک Liminal دور ہے۔ یہ واضح ہوگیا ہے کہ آزادی اور ترقی غیر معقول اور لغو اہداف ہیں لیکن انسانوں کی بہت بڑی اکثریت انہی نامعقول اور لغو اہداف پر ایمان رکھتی ہے اور رائے عامہ کو متاثر کرنے والے تمام مباحث (Policy discourse) انہی اہداف کے حصول کی حکمت عملیاں ترتیب دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کوئی بھی سرمایہ دارانہ مخالف مزاحمتی تحریک آزادی اور ترقی کے اہداف کو واضح طور پر رد نہیں کرتی بلکہ اپنی مزاحمت کو حصولِ آزادی اور ترقی کا ذریعہ گردانتی ہے ۔ان حالات میں یہ بات بالکل واضح نہیں ہے کہ سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کا متبادل کیا ہوگا، اور کتنی صدیوں تک گو مگو کی یہ کیفیت جاری رہے گی۔ تحریکاتِ اسلامی میں یہ رائے عام ہے کہ آنے والا نظام اسلام ہی ہوگا لیکن لگتا تو ایسا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور میں ابھی کئی ہزار سال کا وقفہ باقی ہے۔ آج تحفظِ دین اور غلبۂ دین کی جدوجہد نہایت منتشر اور غیر مربوط ہے اور سست روی کا شکار ہے۔ اسلام میں داخل ہونے والوں کی تعداد محدود ہے اور نو مسلموں کی عظیم اکثریت مسلمانوں کی عظیم اکثریت کی طرح سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی کو رَد کرنے کی نہ استطاعت رکھتی ہے اور نہ خواہش۔ علماء اور صوفیاء فرقہ وارانہ جھگڑوں میں بری طرح پھنسے ہوئے اور غلبۂ دین کی جدوجہد سے قطعاً لاتعلق ہیں۔ تحریکاتِ اسلامی سرمایہ دارانہ جمہوریتوں کا جز و لاینفک بنی ہوئی ہیں۔ یوں اسلامی حکومتیں قائم ہوئی ہیں لیکن ان سب (ایران، سوڈان، مصر وغیرہ)نے عالمی سرمایہ دارانہ نظام سے سمجھوتا کرلیا ہے۔ مجاہدین کی جدوجہد Mezzanine states کی سطح سے بلند ہوتی نظر نہیں آتی۔ ان ریاستوں کو عوامی پذیرائی حاصل نہیں۔ اور مجاہدینِ اسلام عوامی مقبولیت حاصل کرنے کی کوئی جدوجہد مرتب کرنے کے قائل نہیں۔ ان کا رویہ تو اس شعر سے عیاں ہے:
راہِ خدا کے متوالے ہیں اس سے بالکل بے پروا ہیں
کون ہے راضی کون خفا ہے، زنداں زنداں مقتل مقتل
اس طرح جہاد جاری توصدیوں تک رہ سکتا ہے لیکن اس جہاد کے ذریعے توسیع پذیر نظام قائم نہیں کیا جاسکتا۔ ان حالات میں یہ توقع رکھنا کہ مستقبلِ قریب میں ہم کو عالمی نظاماتی غلبہ حاصل ہوگا خوش فہمی کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہ یقینا ممکن ہے کہ اسلام سرمایہ دارانہ نظام کے عالمی متبادل کے طور پر اُبھرے لیکن یہ ہر گز ناگزیر نہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہمیں ایک طویل مدت جدوجہد مرتب اور نافذ کرنا پڑے گی۔
وقتِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
اس جدوجہد کی ابتداء سرمایہ دارانہ نظریات سے اچھی طرح واقفیت پر منحصر ہے۔ ذیل میں لبرل تصورات کی تشریح کرنے کی کوشش کروں گا۔
لبرل ‫#‏تصورِ‬ فرد:
اشراکیت اور قوم پرستی کی طرح لبرل ازم کا بنیادی عقیدہ بھی لاالٰہ الا الانسان ہے۔ لبرل ازم کا الٰہ ہر وہ فرد ہے جو اس کلمۂ خبیثہ پر ایمان لے آئے۔ لبرل نظریہ کے تحت جو فرد اس کلمۂ خبیثہ پر ایمان نہ لائے وہ انسان نہیں۔ امریکی براعظم پر قبضہ کرنے کے دوران تقریباً آٹھ کروڑ سرخ ہندیوں (جو ایک روایت کے مطابق حضرت یونس علیہ السلام کے امتی تھے) کو قتل کیا گیا اور ان کے املاک ان سے چھین لیے گئے۔ Locke نے اس قتلِ عام اور لوٹ مار کو اس بنیاد پر جائز قرار دیا ہے کہ سرخ ہندی انسان نہیں تھے۔ ان کو اپنے انسان ہونے کا شعور نہ تھا۔ وہ قدرتی وسائل پر محنت کرکے سرمایہ کو مستقل لامتناہی بڑھوتری کے لیے استعمال نہ کرتے تھے لہٰذا ان کو قتل کرنا جائز بھی اور ضروری بھی تھا کیوں کہ وہ آوارہ بھینسوں سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھے جن کو ختم کیے بغیر امریکی دولت کو فروغ دینا ناممکن تھا۔
بیسیوں صدی کے اہم ترین لبرل سیاسی مفکر جان رالز کی بھی یہی رائے ہے وہ اپنی مشہور کتاب Political Libralismمیں لکھتا ہے جو افراد آزادی کو قدرِ مطلق کے طور پر قبول نہیں کرتے ان کو ختم کرنا ایسا ہی فرض ہے جیسا ایک متعدی وبا کا ختم کرنا۔ آزادی کے منکروں کو جواب دلیل سے نہیں گولی سے دیا جانا چاہیے۔
امریکی صدور بش اور اوباما نے گوانتاناموبے اور ابو غریب میں جاری ٹارچر کو اسی دلیل کی بنیاد پر جواز فراہم کیا ہے۔ اوباما کی نظر میں مجاہدینِ اسلام انسان نہیں کیوں کہ وہ آزادی پر نہیں بلکہ بندگی ٔرب پر ایمان لائے ہیں۔ مجاہدینِ اسلام کی کھال کھینچنا، ان کو زندہ جلادینا، ان کے معصوم بچوں کو قتل کرنا، ان کی عورتوں کی عصمت دری کرنا، ان کے گھروں کو مسمار کرنا اوباما اپنا فرض سمجھتا ہے۔
لبرل ازم مجاہدین ِاسلام کے خلاف وحشت ناک درندگی کو فرض گردانتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو آزادی پر دلیل کے ذریعے نہیں گولی اور ٹارچر کے ذریعے ایمان لانے پر مجبور کرتا ہے۔ لبرل ازم وحشت ناک درندگی کو جواز فراہم کرنے و الا نظریہ اپنی پوری تاریخ میں رہا ہے۔
وہ آزادی کیا ہے جس پر لبرل ازم ہم کو ایمان لانے پر مجبور کرتا ہے؟ اس سوال کا سب سے واضح جواب Imanuel Kant نے اپنیCritiques میں دیا ہے۔ کانٹ کا بنیادی دعویٰ ہے کہ انسان قادرِ مطلق ہے۔ ہر فرد کے ذہن میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ان اطلاعات کو جو اس کے حواسِ خمسہ اس کو فراہم کرتے ہیں اس طرح سے مرتب کرے کہ وہ مربوط تصورات (Concepts) میں ڈھل جائیں۔ ان تصورات کی تعمیر اور ترتیب کے ذریعے انسان تسخیرِ کائنات کا مکلف ہوجاتا ہے۔ وہ اپنی تمام خواہشات کے حصول کے لیے ایسا ذریعہ اختیار کرنے کے قابل ہوجاتا ہے جو کسی دوسرے انسان کو اپنی خواہشات کے حصول کی راہ میں مزاحم نہیں ہوتا۔ اشیاء اور اعمال کی قدر اس بنیاد پر متعین ہوتی ہے کہ وہ عمل ہر انسان کو اپنی خواہشات کی تکمیل ممکن بنانے میں کتنا معاون ہے۔
کانٹ کے تصورات کے مطابق خرد نفس کی غلام بھی ہے اور معلم بھی۔ وہ نفس کی غلام ان معنوں میں ہے کہ وہ نفس کے احکام کی تعمیل کو رد نہیں کرسکتی اور معلم ان معنوں میں کہ خرد اس عمل کی نشاندہی کرتی ہے جس کے ذریعے نفس کے حکم کی تعمیل اس طرح ہو کہ کسی دوسرے انسان کے نفس کے حکم کی تکمیل میں مزاحمت نہ ہو۔ مثال کے طور پر اوباما زنا کرنا چاہتا ہے خرد اوباما کو بتائے گی کہ وہ زنا اس طرح کرے کہ ہیلری کلنٹن کی خواہشِ نفس کی تکمیل بھی ممکن ہوسکے۔ اگر ہیلری کلنٹن اوباما سے زنا کرنے راضی ہے تو اوباما ہیلری کلنٹن کے ساتھ زنا کرے اگر ہیلری کلنٹن اوباما کے ساتھ زنا کرنے سے راضی نہیں تو اوباما ہیلری کلنٹن کا احترام کرے اور زنا کسی دوسری عورت یامرد کے ساتھ کرے جو اوباما کے ساتھ زنا کرنے کو تیار ہو۔
Kant کے مطابق خرد (Reason) اوباما کو یہ سبق دیتی ہے کہ کسی عمل کو (مثلا زنا) کی کوئی مطلق قدر نہیں، قدر صرف طریقہ (Procedure) کی ہے اور یہ قدر صرف اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ وہ طرائق بڑھوتریٔ آزادی یعنی بڑھوتریٔ سرمایہ میں کتنی معاون ہیں۔ ہر وہ عمل بے قدر ہے جو بڑھوتریٔ سرمایہ (یعنی بڑھوتریٔ آزادی) کو فروغ نہیں دیتا۔ ظاہر ہے کہ قدر کے تعین کا یہ نظام صرف اسی دائرے میں نافذالعمل ہے جہاں ہر فرد بڑھوتریٔ آزادی (یعنی بڑھوتریٔ سرمایہ) پر ایمان رکھتا ہو، لہٰذا دائرہ میں اگر ایسے افرا دموجود ہیں جو بڑھوتریٔ سرمایہ (یعنی بڑھوتریٔ آزادی) کو قدر مطلق کے طور پر قبول نہیں کرتے تو اوباما کا فرض ہے کہ ایسے افراد کو فی الفور قتل کردے۔ ایسے افراد کو دلیل دینے سے کچھ حاصل نہ ہوگا کیوں کہ بڑھوتریٔ آزادی (یعنی بڑھوتریٔ سرمایہ) کو قدرِ مطلق کے طور پر قبول کرنے پر لوگوں کو مجبور ہی کیا جاسکتا ہے قائل نہیں کیا جاسکتا۔
جو لوگ بڑھوتریٔ آزادی (یعنی الوہیتِ انسان) پر ایمان لے آئے ان کو کانٹ Human Being کہتاہے۔ بیسویں صدی میں پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں انسان Human being بن گئے۔ بقول Foucalt سترہویں صدی سے قبل Human being کا وجود سرے سے ناپید تھا۔ لاک Lockکے مطابق ہر Human being کے تین بنیادی ہیومن رائٹس ہوتے ہیں۔ یہ ہیومن رائٹس صرف ان افراد کے ہوتے ہیں جو الوہیتِ انسان پر ایمان لے آئے ہوں۔ ریڈ انڈین اور مجاہدینِ اسلام کے کوئی ہیومن رائٹس تسلیم نہیں کیے جاسکتے کیوں کہ وہ الوہیتِ انسان پر ایمان نہیں لائے۔ وہ Human being نہیں ہیں۔
اقوام متحدہ کے منشور کے تحت بنیادی ہیومن رائٹس تین ہیں:
١… حقِ تحفظ زندگی:
ہر فرد کا یہ فرض/ حق ہے کہ وہ اپنی زندگی بڑھوتریٔ آزادی بڑھوتریٔ سرمایہ کے عمل میں جس طرح کھپانا چاہیے کھپائے۔ جب تک وہ زندگی اس فرض کی ادائیگی میں کھپائے رکھے گا اس کی زندگی محفوط رہے گی۔ اگر اس نے اپنی جان بڑھوتریٔ آزادی (بڑھوتریٔ سرمایہ) کے عمل میں مزاحمت ڈالنے کے لیے لگائی تو اوباما کا فرض ہے کہ اس کو قتل کردے۔ جیسے مجاہدینِ اسلام کو قتل کررہا ہے اور جیسا اوباما کے باپ داداؤں نے آٹھ کروڑ ریڈ انڈین (سرخ ہندیوں) کو قتل کیا تھا۔
٢… حقِ ملکیت:
ہر فرد کا فرض / حق ہے کہ وہ اپنی محنت اور اپنا مال سرمایہ کی بڑھوتری کے عمل میں جس طرح چاہے لگائے رکھے، اگر اس نے اپنی محنت اور اپنا مال سرمایہ کی بڑھوتری میں رخنہ ڈالنے کے لیے استعمال کیا تو اوباما اس کا مال چھین لے گا جیسا کہ وہ افغانستان میں قبضہ جمائے ہوئے ہے اور جیسا کہ اوباما کے باپ دادائو ں نے سرخ ہندیوں کا تمام مال و اسباب چھین لیا تھا۔
٣… حقِ آزادیٔ رائے:
ہر شخص کا فرض / حق ہے کہ وہ بڑھوتریٔ آزادی / بڑھوتریٔ سرمایہ کے فروغ کے لیے جو رائے دینا چاہے دے، مثلاً عریاں تصاویر کی اشاعت کا حق۔ انبیاء علیہم السلام کو گالیاں دینے کا حق / فرض وغیرہ ۔ چوں کہ لبرل معاشروں میں ذرائع ابلاغ پر سرمایہ کی اجارہ داری مسلط ہوجاتی ہے لہٰذا سرمایہ آزادی مخالف آراء کی تشہیر تقریباً معدوم ہوجاتی ہے اور اگر ایسی آراء سامنے آئیں تو اوباما اس کو ضبط کرلیتا ہے اور اپنے حلیف اداروں کے ذریعے ان ناقدینِ سرمایہ کاری اور لبرل اقدار کی زندگی حرام کردیتا ہے۔
لبرل ازم جس انفرادیت کو فروغ دیتی ہے وہ شہوت اور غضب سے مغلوب انفرادیت ہے جیسا کہ اٹھارہویں صدی کے ایک عیسائی راہبIII St.lglesias نے کیا۔ Human being انسانیت نہیں شیطانیت کا مظہر ہے۔ اوباما شیطانِ کامل ہے۔
لبرل معاشرت:
لبرل ازم فرد (Human being# ) کو قائم بالذات (Autonomous) تصور کرتا ہے۔ ہر Human being اپنا معیارِ خیر و شر اور اپنا نظامِ زندگی خود متعین کرنے کا مکلف تصور کیا جاتا ہے۔ ہر فرد اپنے نفس کے احکامات (خواہشاتِ نفسانیہ) کی تسکین کے لیے اپنی خرد کے ذریعہ ایسا نظام العمل (Life plan) مرتب کرتا ہے جو ہر دوسرے Human being کے اس مادی حق (Equal right) کو تسلیم کرتا ہے کہ یہ دوسرا Human being بھی اپنی خواہشاتِ نفسانیہ کی تکمیل بغیر کسی رکاوٹ کے کرسکے۔
Rousseau کہتا ہے کہ معاشرہ کی بنیاد ایک ایسے Social Contract (معاشرتی معاہدہ) پر رکھی جاتی ہے، جس میں ہر Human being اپنی انفرادی آزادی کے تحفظ کے لیے اس آزادی پر ایسی حدود تسلیم کرتا ہے جو معاشرہ میں شامل تمام افراد کی آزادی کے تحفظ کے لیے ضروری ہوتی ہیں اس بنیاد پر ایک لبرل ریاست۔ دستوری جمہوریہ (Constitutional republic) قائم ہوتی ہے جس کا تذکرہ ہم اگلے سیکشن میں کریں گے۔
معاشرتی سطح پر Social Contract# کی بنیاد پرجو ادارتی صف بندی عمل میں آتی ہے اس کو مارکیٹ (Market) کہتے ہیں مارکیٹ بازار کی ظالمانہ تنظیم ہے۔ مارکیٹ میں ہر بیوپاری صرف اپنے سرمایہ کی بڑھوتری کے لیے داخل ہوتا ہے۔ بازار اور مارکیٹ میں جو بنیادی فرق ہے وہ میں د و مثالوں کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کروں گا:
بازار میں لین دین کا فارمولا ہے
CA -M-CB
جہاں C سے مراد ہے شے
M سے مراد ہے زر
بازار میں بیوپاری ایک شے مثلا کپڑا ( A C) لے کے آتا ہے اور اس کو زر (M) کے عوض فروخت کرتا ہے۔ اس زر سے وہ آٹا (CB) خریدتا ہے تاکہ اپنے بال بچوں کو پال سکے انفاق کرسکے وغیرہ۔ بازار میں آنے کا مقصد اپنی ضروریات کو پورا کرنا ہوتاہے۔ اس ہی کاروبار کو عبادت کا درجہ حاصل ہے اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”سچائی اور ایمانداری کے ساتھ کاروبار کرنے والا آخرت میں انبیائ، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔” (ترمذی ابن ماجہ)
مارکیٹ میں لین دین کا فارمولہ
مارکیٹ میں بیوپاری زر (M) لے کر آتا ہے وہ اس زر سے خام مال (R) اور مزدوری (L)خریدتا ہے اور اس مزدوری اور خام مال کے ذریعے ایک شے(C) بناکر بیچتا ہے تاکہ مزید زر (M1) کماسکے۔ M اورM1 میں جو فرق ہے وہA Cاور CB فرق سے بالکل مختلف ہے۔ A C اور CBمیں نوعی Substantive فرق ہے۔ A Cکپڑا اور CB آٹا ہے ۔ M اور M1 میں کو ئی نوعی فرق نہیں دونوںزر ہیں M اور M1 میں فرق صرف عددی (Quantitative) ہے۔ مارکیٹ کا بیوپاری کو شش کرتا ہے کہ M اور M1 کا فرق(M1- M) زیادہ سے زیادہ ہو ۔یہ اس کے کاروبار کرنے کا مقصدہے۔ اس کے کاروبار کرنے کا مقصد ضروریات پورا کرنا صرف ضمنی طور پر ہوتا ہے اور اصل مقصد(M1- M) کی زیادہ سے زیادہ بڑھوتری ہے۔
M اور1 Mکا فرق بیوپاری کا منافع ہوتا ہے لیکن اگر یہ منافع اصولاً مزید منافع کمانے کے لیے استعمال ہو اور اس کے باقی تمام استعمال ضمنی ہوجائیں تو یہ منافع سرمایہ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ سرمایہ (Capital) وہ زر ہے جو محض اپنی مقداری بڑھوتری ”Quantitative Accumulation” کی تلاش میں پیداواری عمل سے گزرتا رہتا ہے۔ یہ بڑھوتری لامحدود ہوتی ہے کیوں کہ سرمایہ حرص اور حسد کی تجسیم کے علاوہ کچھ نہیں اور حرص اور حسد لامحدود شیطانی قوتیں ہیں۔ سرمایہ کی بڑھوتری کو لامحدود بنانے کے لیے دو مارکیٹ قائم کیے جاتے ہیں۔ زر کی مارکیٹ (Money Market) اور سٹہ کی مارکیٹ (Capitial market) زر کی مارکیٹ میں جس قیمت پر زر بیچا اور خریدا جاتا ہے وہ سود ہے۔ اور سٹہ کے بازار میں جس قیمت میں حصص (Shares) اور تمسکات (Bonds) بیچے اور خریدے جاتے ہیں وہ مسلسل سٹہ کے کھیل کے ذریعہ متعین ہوتی ہے۔ سود کی مارکیٹ اور سٹہ کی مارکیٹ کے ذریعہ سرمایہ معاشرہ کی تمام دولت پر قبضہ کرلیتا ہے۔ زر کی مارکیٹ کے بنیادی ادارے بینک ہیں۔ یہ زر کی تشکیل کرتے ہیں (اور سرمایہ دارانہ نظام میں زر کی کوئی اصل قدر Value Real نہیں ہوتی) اور تمام افراد بینکوں میں اپنی بچتوں کو رکھنے پر مجبور کردیے جاتے ہیں۔ بینک یہ تمام دولت سرمایہ داراوں کو قرض کے طور پر دے کر ہر شخص کی بچت کو سرمایہ کے گردشی چکر میں شامل کردیتے ہیں۔
سٹہ کا بازار ذاتی ‫#‏ملکیت‬ کو ختم کرکے سرمایہ کی ملکیت بتدریج معاشرہ پر مسلط کردیتا ہے۔ سٹہ کی مارکیٹ کا بنیادی ادارہ کارپوریشن (Corporation)ہے یہ کارپوریشن وہ شخصِ قانونی (Legal Person) ہے جس کا مقصدِ وجود اصولا ً صرف اپنے سرمایہ کی مستقل بڑھوتری ہوتا ہے۔ کارپوریشن کے مالک افراد نہیں ہوتے بلکہ سرمایہ خود اس کا مالک ہوتاہے۔ کارپوریشن کی ملکیت لاکھوں افراد کو سٹہ کے بازار کے ذریعہ فروخت کردی جاتی ہے۔ اور ان میں کسی کو بھی عملاً یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ کارپوریشن کے کاروباری عمل کے تعین میں حصہ لے۔ کارپوریشن پر ایک (Professional management) قابض ہوتی ہے اور یہ منجمنٹ اس بات پر مجبور ہوتی ہے کہ کارپوریشن کے تمام کاروباری فیصلے صرف اس بنیاد پر کئے جائیں کہ ان فیصلوں کے نفاذ کے نتیجے میں کارپوریشن کے سرمایہ کی بڑھوتری تیز سے تیز تر ہورہی ہے یا نہیں؟ اگر فیصلے کسی اور بنیاد پر کیے جائیں اور کارپوریشن کے سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار دوسری کمپنیوں کے مقابلے میں کم ہوجائے تو سٹہ کا مارکیٹ اس کمپنی کو سزا دیتا ہے۔ اس کے حصص کی قدر گر جاتی ہے اور آخر کار کمپنی دیوالیہ (Bankrupt) ہوجاتی ہے۔ اور اس کی منجمنٹ نکال دی جاتی ہے اور وہ کسی دوسری کارپوریشن میں ضم کرلی جاتی ہے۔ سود کی مارکیٹ اور سٹہ کی مارکیٹ سرمایہ دارانہ معاشرے میں قدر کے تعین کے ذمہ دار ادارے ہوتے ہیں۔ ہر معاشی عمل کا تعین اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار کتنی بڑھی ہے یا کتنی بڑھنے کی توقع ہے۔ مثلاً کارپوریشن X جانماز بناتی ہے اور کارپوریشن Y فحش فلمیں بناتی ہے تو سٹہ کی مارکیٹ ان کارپوریشنوں کے حصص کا تعین کرے گی تو اس بنیاد پر نہیں کرے گی کہ جانمازیں اور فحش فلمیں حصولِ رضائے الٰہی کا ذریعہ ہیں یا نہیں یا وہ مفادِ عام کو فروغ دیتی ہیں یا نہیں؟ حصص کی قیمتوں کا تعین کہ کس کارپوریشن کا موجود اور متوقع منافع زیادہ ہے اگر فحش فلمیں بنانے والی کارپوریشن کا حاضر اور متوقع منافع جانمازیں بنانے والی کارپویشن کے منافع سے زیادہ ہے تو فحش فلمیں بنانے والی کارپوریشن کے حصص کی قیمت بڑھے گی۔ اور چوں کہ اس فحش فلمیں بنانے والی کارپوریشن کا Divident payout اور Capital Gain زیادہ ہوگا لہٰذا تمام Fund Managers لوگوں کا سرمایہ جانماز بنانے والی کارپوریشن سے نکال کر فحش فلمیں بنانے والی کارپوریشن میں لگادیں گے۔
سرمایہ دارانہ لبرل معاشرے میں حاکمیت صرف سرمایہ کی ہوتی ہے۔ نجی ملکیت بتدریج ختم ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہر شخص کتنا بھی امیر کیوں نہ ہو سرمایہ کا ملازم اور اس کا غلام بن جاتا ہے کیوں کہ وہ اپنی دولت بینکوں اور سٹہ کی مارکیٹ کے سپُرد کردیتا ہے۔ اور یہ بازار اس کو ایک منٹ میں مفلس بناسکتے ہیں۔ وہ ان مارکیٹوں کے احکام کی حکم عدولی کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔
عیسیٰ پیر نہ موسیٰ پیر
سب سے بڑا سر ما یہ پیر
لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ پورے معاشرے پر قبضہ کرلیتا ہے۔ ہر معاشرتی ادارہ مارکیٹ میں ضم ہوجاتا ہے۔ سب سے تباہ کن اثر خاندان پر پڑتا ہے جہاں ماں باپ اولاد کی تربیت زیادہ سے زیادہ سرمایہ کمانے کے قابل بنانے کے لیے کرتے ہیں اور اس تربیت کے نتیجے میں خود غرضی، لالچ، حرص اور حسد کا سیلاب پورے معاشرے کو ڈبودیتا ہے۔ عورتیں گھروں سے نکل کر بازاروں میں بیٹھ جاتی ہیں۔ عصمت اور عفت کی دھجیاں اُڑ جاتی ہیں۔ زنا اتنا عام ہوجاتا ہے کہ نکاح ایک نامعقول فعل نظر آنے لگتا ہے۔ حرامی بچوں کی تعداد جائز اولاد سے بڑھ جاتی ہے۔ جیسا کہ امریکا، سویڈن اور فرانس میں ہوچکا ہے جہاں حالیہ سرویز کے مطابق نصف سے زائد پیدا ہونے والے بچے حرامی ہوتے ہیں۔ اور یہ کوئی مغرب تک محدود رجحان نہیں دو ہزار گیارہ کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں حرامی بچوں کی تعداد دو ہزار ایک کے مقابلے میں ٣٦٧ فی صد زیادہ تھی۔
لبرل معاشرے غلیظ ترین گھنائونے معاشرے ہوتے ہیں دنیا میں کسی ایک ایسے ملک کی مثال نہیں دی جاسکتی جس میں لبرل معاشرت پھیلی ہو اور وہاں زنا کاری اغلام بازی اور جانوروں سے مباشرت وبا کی طرح نہ پھیلے ہوں۔ آج کل امریکا میں صلیب (Cross) کے ذریعے زنا کرنے کا شغل نہایت تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس عمل سے روحانی فیض حاصل کرنے کے دعوے کیے جارہے ہیں۔ ان معاشروں میں مذہب کھیل تفریح اور لذت کے حصول کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ Meditation کی محفلوں میں شرکت چرس پینے کے متبادل کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔ ہر شخص کو تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے بالکل آزاد ہے اور معاشرتی تنظیم کا مقصد ہی فروغ لذاتِ خواہش اور خود غرضی ہوکر رہ جاتا ہے۔
بے کاری وعریانیوں و مے خوری و افلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحات
لبرل ریاست:
لبرل نظریہ مارکیٹ کی ریاست پر بالادستی پر یقین رکھتا ہے۔ اور لبرل سرمایہ دارانہ نظامِ زندگی میں مارکیٹ ریاست پر غالب ہوتی ہے۔ اس کے برعکس قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ دارانہ نظام ہائے زندگی میں مارکیٹ کے عمل پر ریاستی تحدیدمختلف حد تک روا رکھی جاتی اور چوں کہ ان نظاموں میں ریاست سرمایہ کی عمومی نمایندہ (Representative of capital in general) ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لہٰذا عموماً (اور مختلف حد تک) قوم پرست اور اشتراکی سرمایہ دارانہ ریاستیں قدر کے تعین کے عمل سے لاتعلق نہیں رہتیں اور منصوبہ بندی (Planning) کے ذریعے مارکیٹ پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
لبرل ‫#‏ریاست‬ ایک نمایندہ دستوریت ( Constitutional Republic) ہوتی ہے جو عموماً جمہوریہ بھی ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد بھی Rousseau کا متصور وہی سوشل کنٹریکٹ (Social Contract) فراہم کرتا ہے جس کی بنیاد پر سرمایہ دارانہ مارکیٹ قائم کی جاتی ہے۔ Repbublic سے مراد ہے عوام کی حکومت۔ عوام حکومت ان معنوں میں کرتے ہیں کہ وہ اصولاً مطلق العنان حاکم (Absolute sovereign) تصور کئے جاتے ہیں۔ وہ حکومت اسی مطلق العنان حاکمیت یعنی آزادی کو تحفظ اور فروغ دینے کے لیے کرتے ہیں۔ ہر ری پبلک کا بنیادی عقیدہ لا الٰہ الا الانسان ہی ہوتا ہے اور دستور اس عقیدہ کو ہیومن رائٹس (Human Rights) کی شکل میں اپنے مقدمہ Preamble میں شامل کرلیتا ہے۔ یہ ہیومن رائٹس ان معنوں میں مقدس ہوتے ہیں کہ عوام کو یہ حق نہیں کہ کثرت رائے سے ان ہیومن رائٹس کو منسوخ کردیں۔ چوں کہ ہیومن رائٹس الوہیتِ انسانی کا دعویٰ ہیں لہٰذا ہر ری پبلک میں دستور کتابِ الٰہی کی جگہ لے لیتا ہے۔
لبرل ریاست عموماً نمائندگی (Representative) کی بنیاد پر تشکیل دی جاتی ہے۔ لبرل ریاست میں عوام خود حکومت نہیں کرتے بلکہ وہ کثرت رائے سے اپنے نمائندہ منتخب کرتے ہیں جو قانون ساز (Legislators) ہوتے ہیں۔ قانون سازی (Legislation) لازماً دستور کے تناظر میں ہی کی جاتی ہے۔ لہٰذا کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جاسکتا جو ہیومن بینگ (Human Being) کی مطلق العنان حاکمیت اور اس کی الوہیت کی نفی کرتا ہو۔ قانون نافذ قانون ساز نہیں کرتے بلکہ یہ ایک غیر منتخب ریاستی انتظامیہ (پولیس، فوج اور سرکاری نوکر شاہی، عد لیہ) کرتی ہے۔ سب حکومت کرتے ہیں (عملاً مقننہ یعنی قانون ساز ان میں سب سے غیر اہم عنصر ہوتے ہیں۔) دورِ حاضر میں میڈیا بڑی کارپوریشنیں اور سرمایہ دارانہ مفکر (Capitalist Intelectuals)بھی لبرل حکومتوں کا اہم جز ہوتے ہیں ان کو عموماً یونیورسٹیوں اور Think Tanksمیں منظم کیا جاتا ہے۔
قانون سازوں کے علاوہ باقی تمام گروہ غیر منتخب اور مستقل وجود رکھنے والے ہوتے ہیں اور سیاسی فیصلوں کی اصل ذمہ داری انہی مستقل حکمرانوں کی ہوتی ہے کیوں کہ یہ سرمایہ دارانہ عقلیت کے محافظ ہوتے ہیں اور ان کا فرض ہے کہ قانون سازی کا عمل سرمایہ دارانہ عقلیت سے متصادم نہ ہو۔ اصل قوت انہی مستقل حکمرانوں کے پاس ہوتی ہے اور یہ قانون سازوں کے فیصلوں کی وہ عملی تشریح کرتے ہیں جو فروغِ سرمایہ (یعنی فروغِ آزادی) کومستقل مہمیز دے۔
گو کہ عوام گاہ مقننہ کو منتخب کرتی رہتی ہے لیکن عملاً اس کا حکومتی عمل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اصل حکومت سرمایہ کی ہوتی ہے۔ کسی فرد یا گروہ یا ادارہ کی نہیں ہوتی۔ پورا ریاستی نظام ان اصولوں کی بنیاد پر چلایا جاتا ہے کہ سرمایہ کی بڑھوتری کی رفتار تیز سے تیز تر ہو سرمایہ ہی آزادی کی تجسیم (Concrete Form) ہے ،آزادی کی کوئی دوسری تجسیم تاریخ انسانی میں پائی نہیں جاتی، مارکیٹ کی ریاست میں بھی ہر فرد سرمایہ کا غلام ہوتا ہے۔ لبرل ریاست سرمایہ کی مطلق العنان حاکمیت قائم کرتی ہے اور اس کا سٹیزن (Citizen) صرف ان معنوں میں مطلق العنان حکمران ہے کہ وہ لاالٰہ الا الانسان کے خبیث کلمہ پر ایمان لے آیا ہے اور اس نے سرمایہ دارانہ عقلیت قبول کرلی ہے۔ وہ ہر چار پانچ سال بعد اپنے ان کافرانہ عقائد اور عقلیت کا اظہار انتخاب میں حصہ لے کر کرتا ہے اور ان لوگوں کے حکومت کرنے کی تصدیق کرتا ہے (خواہ وہ منتخب مقننہ میں ہوں یا غیر منتخب فوج، پولیس، نوکر شاہی، عدلیہ، میڈیا یا یونیورسٹیوں اورThink Tanks میں) جو اس کی آزادی یعنی سرمایہ کی بڑھوتری کی عمومی رفتار کی مستقل نگرانی کررہے ہوتے ہیں۔ وہ اگر اس فرض کو انجام دینے میں ناکام ہوجائیں تو ان کو اس ہی طرح برطرف کرنے کی گنجائش موجود رہتی ہے جیسے کارپوریشن کے منیجمنٹ کو برطرف کیا جاتا ہے۔
مارکیٹ اور ریاست میں سرمایہ دارانہ نظام ایک عام آدمی کو مجبور اور بے بس کردیتا ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ میں ہم نے دیکھا کہ جیسے جیسے سود کا مارکیٹ اور سٹہ کا مارکیٹ دولت پر قبضہ مستحکم کرلیتا ہے ویسے ویسے نجی ملکیت ختم ہوتی چلی جاتی ہے اور ایک عام آدمی اس بات پر مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ سرمایہ کی غلامی (اس کوWage labourکہتے ہیں) اختیار کرلے۔ اسی طرح ایک لبرل ریاست میں تمام قوت سرمایہ کے نمایندوں (فوج، پولیس، نوکر شاہی، عدلیہ، مقننہ، میڈیا اور Intellectulas ) ہاتھوں میں مرتکز ہوجاتی ہے۔ غیر سرمایہ دارانہ اجتماع قوت مشکل سے مشکل تر ہوتا جاتا ہے اس بات کو دورِ حاضر کے فرانسیسی فلسفیAlain Badiou نے اچھی طرح بیان کیا ہے وہ کہتا ہے کہ ”جمہوریت وہ زنجیر ہے جس سے عوام کو سرمایہ کے اصطبل میں مقید کیا جاتا ہے۔”
لبرل ‫#‏جمہوری‬ ریاستوں کے خلاف کامیاب سیاسی بغاوت کی تاریخ میں صرف ایک مثال ملتی ہے اور وہ ہے حزب اللہ جنوبی لبنان کی بغاوت، حزب اللہ نے جنوبی لبنان سے لبرل جمہوری نظام کو فیصلہ کن شکست دی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا میں کبھی اور کہیں لبرل جمہوری ریاست کے خلاف کامیاب بغاوت پچھلی تین سو سالہ تاریخ میں برپا نہیں کی گئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لبرل جمہوری ترتیبِ اقتدار سرمایہ کی سب سے طاقت ور، جابر، ظالم اور مستحکم ریاستی نظم ہے۔ اس استحکام اور قوت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اٹھارہویں صدی کے بعد پہلے یورپ اور پھر دنیا بھر میں مذہبی، سیاسی آدرشیں اجنبی سے اجنبی ہوتی چلی گئیں۔ انفرادی طور پر تو بہت کم لوگ لبرل مابعد الطبیعاتی تصورات پر ایمان لائے (ماسوائے یورپ) زیادہ تر لوگ مذہبی تشخص اختیار کیے رہے۔ مادیت کا معاشرے پر غلبہ بھی سست رفتار اور نامکمل ہے، مسئلاً پاکستان میں پچانوے فیصد کاروبار سود اور سٹہ کے بازاروں کی دسترس سے باہر ہے اور دس فی صد سے کم پاکستانی بینکوں میں اکاؤنٹ رکھتے ہیں۔
لیکن ان صدیوں کی لبرل معقولیت اس وسیع پیمانے پر تسلیم کی گئی کہ مذہبی تشخص رکھنے والے عوام اور خواص کی عظیم اکثریت اس بات کی قائل ہوگئی کہ جائز (legitimate) اور معقول صف بندی وہی ہے جو لبرل نظامِ اقتدار تجویز کرتا ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کی عظیم اکثر یت جو اپنی نجی زندگی غرض و حسد کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلوں کو جائز (legitimate) نہیں تصور کرتے نظام اقتدار کی ضمن میں حرص و حسد کی بنیاد پر کیے جانے والے فیصلوں کو نا صرف برداشت (Tolerate) کرتی ہے۔ بلکہ ان کو معقول اور جائز بھی تصور کرتی ہے۔ لہٰذا جب عوامی جدوجہد سرمایہ کی غیر لبرل تنظیمی اقدار مثلاً قوم پرستانہ یا اشتراکی تنظیم اقتدار کے خلاف برپا کی جاتی ہے تو عوام کا سیاسی مقصد لبرل دستوری حقوق اور شخصی سیاسی آزادی اور معاشی ترقی کا حصول ہی ہوتا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال مصر، تیونس اور لیبیا کے انقلابات ہیں۔ ان تمام انقلابیوں کی جدوجہد میں اسلامی قوتوں بالخصوص اخوان المسلمون نے اہم کردار ادا کیا ہے لیکن یہ اسلامی قوتیں لبرل سیاسی تصورات کی تنفیذ کی مدعی ہیں۔ ان سب کا ماڈل ترکی کی Justice and Development پارٹی ہے اور وہ اس بات کے دعویدار ہیں کہ مصر، تیونس وغیرہ میںحکومت میں تو اسلامی شرع نافذ ہو لیکن ریاست خالص سیکولر اور لبرل بنائی جائے۔ ایران اور سوڈان کی ریاستوں کو بھی لبرل جمہوریت سے شدید خطرہ ہے۔ ان ممالک میں لبرل قوتوں کو عوام کی ایک بڑی تعداد (بشمول علمائ) کی حمایت حاصل ہے اور ان کی موثر پشت پناہی امریکی استعمار کررہا ہے۔ حال ہی میں سوڈان اپنا آدھا حصہ لبرل قوتوں کے ہاتھوں شکست کھاکر کھو بیٹھا ہے

adfly